اورنگ آباد (لارڈ میڈیا) ابھیجیت دیپکے، جو کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ہیں، نے الزام لگایا ہے کہ انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل نہ ہونے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فون کالز اور احتجاج کے دوران بارہا خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنا مؤقف تبدیل نہ کیا تو انہیں گولی مار دی جائے گی۔
ابھیجیت دیپکے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران بھی انہیں مسلسل دباؤ کا سامنا رہا۔ ان کے مطابق بعض افراد نے انہیں احتجاج ختم کرنے اور بی جے پی میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے دھمکی دی کہ انکار کی صورت میں انہیں جان سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
دیپکے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہی بی جے پی اور آر ایس ایس کی ’محبت کی زبان‘ ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ ساتھ آ جاؤ، ورنہ تمہارے یا تمہارے اہلِ خانہ کے ساتھ برا سلوک کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو مختلف نوعیت کی دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں متعدد مرتبہ بی جے پی میں شمولیت کی پیشکش کی گئی، تاہم انہوں نے ہر بار انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کا ارادہ بی جے پی میں جانے کا ہوتا تو وہ بہت پہلے یہ فیصلہ کر چکے ہوتے۔
ملکی سیاست میں مستقبل کے کردار سے متعلق سوال پر دیپکے نے کہا کہ ملک میں ایک شخصیت کو اس حد تک طاقتور بنا دیا گیا ہے کہ اسے آئین سے بھی بالاتر سمجھا جانے لگا ہے، جبکہ بھارت کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری عوام کا متحد ہونا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی پر بیرونی فنڈنگ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر واقعی ان کی جماعت غیر ملکی طاقتوں کے اشاروں پر کام کر رہی ہے تو یہ وزیر داخلہ امیت شاہ کی ناکامی ہے، لہٰذا انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
ابھیجیت دیپکے نے جنتر منتر میں احتجاج کے دوران ہونے والے پتھراؤ اور طلبا پر پولیس کے لاٹھی چارج کا ذمے دار بھی امیت شاہ کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام کارروائیاں پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں۔


