نیویارک (لارڈ میڈیا): اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر انہیں بیرون ملک حراست میں لینے کی کوشش کی گئی تو ان کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی دستے تیار ہیں۔ نیتن یاہو نے یہ بات اس وقت کہی جب وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ستمبر میں نیویارک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
امریکی صدر سے ملاقات کے بعد ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ وہ نیویارک کا دورہ منسوخ نہیں کریں گے اور اگر انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کے گرد خصوصی دستے موجود ہوں گے۔ انہوں نے خصوصی دستوں کے کردار کے بارے میں وضاحت نہیں کی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کا ذکر ہو رہا ہے۔ دی اکانومسٹ کے سروے کے مطابق 49 فیصد امریکی بالغ افراد نیتن یاہو کی گرفتاری کی حمایت کرتے ہیں۔
نیتن یاہو نے ممدانی پر یہودیوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا اور آئی سی سی کے وارنٹ کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کی کارروائیاں مستقبل میں امریکی حکام کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے زبردست طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا اور کہا کہ اسرائیل معاہدہ ابراہیمی کو سعودی عرب تک وسعت دینے کے لیے خوش ہوگا۔


