ہومتازہ ترینشاہراہِ ریشم کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے ثقافتی ورثہ کے نوجوان...

شاہراہِ ریشم کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے ثقافتی ورثہ کے نوجوان ماہرین دُون ہوانگ میں جمع

اس پروگرام میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ، عجائب گھروں کے ماہرین، ثقافتی ورثے کے تحفظ سے وابستہ افراد اور محققین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا ہے۔ پروگرام میں کلاس روم کی تعلیم، تجربہ گاہوں میں عملی مشق اور فیلڈ ٹریننگ شامل ہے تاکہ شرکاء شاہراہِ ریشم کے ثقافتی ورثے کے تحفظ میں درپیش عملی چیلنجز سے مئوثر انداز میں نمٹ سکیں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): نازیرا دوئیشومبیکووا، وزارتِ ثقافت، اطلاعات اور امورِ نوجوانان، کرغزستان
’’آج ہم شاہراہِ ریشم کے ثقافتی ورثے کا مطالعہ کرتے ہیں کیونکہ یہ ہماری تاریخ ہے۔‘‘

بہت سے شرکاء کے لئے یہ پروگرام صرف ثقافتی ورثے کے تحفظ کی جدید تکنیک سیکھنے تک محدود نہیں بلکہ شاہراہِ ریشم سے وابستہ ممالک کے درمیان دوستی کو فروغ دینے اور ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): یان شیاؤ ہوئی، اسسٹنٹ کیوریٹر، دُون ہوانگ اکیڈمی
"یہ تربیتی پروگرام مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے نوجوان ماہرینِ ثقافتی ورثہ کو باہمی رابطے، تبادلہ خیال اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے شرکا تحفظِ ورثہ کے جدید تصورات کو منظم انداز میں سیکھنے کے ساتھ اپنے خیالات اور تجربات کا تبادلہ بھی کر سکتے ہیں۔”
منتظمین کے مطابق یہ پروگرام قدیم شاہراہِ ریشم کے تاریخی مقامات کے تحفظ کے لئے جن درکار عملی مہارتوں پر مرکوز ہے، ان میں آثارِ قدیمہ کے سروے، آثار کے تحفظ، نگرانی اور تاریخی مقامات کا انتظام شامل ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): پئی چیانگ چیانگ، محقق، دُون ہوانگ اکیڈمی
’’چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے نوجوانوں کو ایک جگہ جمع کرنے سے انہیں چین، وسطی ایشیا اور شاہراہِ ریشم سے وابستہ دیگر خطوں میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کی موجودہ صورتحال، درپیش اہم چیلنجز اور مستقبل کے ممکنہ حل کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لینے کا موقع مل رہا ہے۔‘‘

لان ژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں