ہومتازہ ترینسال 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی اقتصادی ترقی ’’انتہائی مثبت‘‘...

سال 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی اقتصادی ترقی ’’انتہائی مثبت‘‘ رہی، آسٹریلوی ماہر کی رائے

چینی معیشت کے ایک ممتاز آسٹریلوی ماہر کا کہنا ہے کہ سال 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی اقتصادی ترقی انتہائی مثبت رہی حالانکہ یہ سال دنیا کی کئی معیشتوں کے لئے نہایت مشکل ثابت ہوا ہے۔
شِنہوا کو دئیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں یونیورسٹی آف سڈنی بزنس سکول میں چائنیز بزنس اینڈ منیجمنٹ کے پروفیسر ہانس ہینڈرشکے نے کہا کہ چین نےمستحکم معیشت اور بڑھتی ہوئی برآمدات کے ساتھ اس عرصے میں ’’بہت اچھا نتیجہ‘‘ حاصل کیا۔
چین کے قومی ادارۂ شماریات کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کی پہلی ششماہی میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 4.7 فیصد کا سالانہ اضافہ ہوا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ہانس ہینڈرشکے، پروفیسر، چائنیز بزنس اینڈ منیجمنٹ، یونیورسٹی آف سڈنی بزنس سکول
’’رواں برس کی پہلی ششماہی میں چین کی اقتصادی ترقی انتہائی مثبت رہی۔ یہ کوئی آسان سال نہیں تھا۔ یہ سال بہت سی معیشتوں کے لئے نہایت مشکل ثابت ہوا۔ ایسے حالات میں چین نے سال کے ابتدائی حصے میں بڑھتی ہوئی برآمدات کے ساتھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مجموعی طور پر یہ چین کے لئے بہت اچھا نتیجہ ہے۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ چین کی اقتصادی ترقی کے پیچھے نہایت محتاط اور وسیع معاشی منصوبہ بندی کارفرما ہے جس کی بدولت شرح نمو تقریباً اسی سطح پر رہی جس کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔‘‘
چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی غیرملکی تجارت 16.9 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 254 کھرب 70 ارب یوآن (تقریباً 37 کھرب 50 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی۔
مجموعی غیرملکی تجارت میں برآمدات 13.4 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 147 کھرب 30 ارب یوآن تک پہنچ گئیں۔ گیارہ سہ ماہیوں سے برآمدات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب درآمدات 22.1 فیصد کے اضافے کے ساتھ 107 کھرب 40 ارب یوآن ہو گئیں جو برآمدات کی شرح نمو سے 8.7 فیصد پوائنٹس زیادہ تھیں۔ اس رجحان سے تجارت کی مزید متوازن ترقی کو فروغ ملا۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ہانس ہینڈرشکے، پروفیسر، چائنیز بزنس اینڈ منیجمنٹ، یونیورسٹی آف سڈنی بزنس سکول
’’میرے خیال میں بین الاقوامی مبصرین کے لئے عالمی سطح پر سب سے زیادہ متاثر کن پہلو چین کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ چینی برآمدات نے بہت مستحکم انداز میں ترقی کی ہے۔خاص طور پر ان شعبوں میں مضبوط ترقی دیکھی گئی جن کا مستقبل انتہائی روشن ہے۔ ان میں اعلیٰ ٹیکنالوجی، جدید مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت سے متعلق صنعتیں اور ماحول دوست توانائی کے شعبے شامل ہیں۔ اس لئے حقیقت یہ ہے کہ چین کا ان منڈیوں میں کامیابی سے داخل ہونا اور وہاں قائدانہ مقام حاصل کرنا اس کے مستقبل کے کردار کے لئے نہایت اہم ہے۔‘‘
ہینڈرشکے کا ماننا ہے کہ چین عالمی اقتصادی ترقی کا ایک اہم محرک بن چکا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): ہانس ہینڈرشکے، پروفیسر، چائنیز بزنس اینڈ منیجمنٹ، یونیورسٹی آف سڈنی بزنس سکول
’’عالمی معیشت کے لئے یہ بات یقینی ہے کہ چین اقتصادی ترقی کا ایک اہم محرک بن چکا ہے۔ وہ نہ صرف مضبوط معاشی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے بلکہ اس کے رسدی نظام بھی مستحکم ہیں۔ چین ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی اہم شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر قابلِ تجدید توانائی کے شعبے ہی کو لے لیجئےمستقبل کی تکنیکی ترقی کے حوالے سے چین کا کردار عالمی معیشت کے لئے نہایت اہم ہوگا۔ اس طرح چین تکنیکی اور تجارتی دونوں شعبوں میں ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کر چکا ہے۔‘‘
سڈنی، آسٹریلیا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں