اقوام متحدہ (شِنہوا) چین کے سفیر نے کہا ہے کہ یوکرین میں جنگ مزید شدت اختیار کر رہی ہے اور عام شہریوں کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ جلد بحالی امن کے لئے کشیدگی کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
یوکرین سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لی نے کہا کہ یوکرین کی صورتحال میں حالیہ پیش رفت انتہائی تشویشناک ہے۔ حالیہ دنوں میں متعدد حملوں کے نتیجے میں دونوں جانب بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ بنیادی شہری سہولتوں کو بھی وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوری ترجیح جنگ بندی اور لڑائی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ان کے بقول جنگ میں شدت صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرے گی جبکہ جلد جنگ بندی اور لڑائی کا خاتمہ تمام متعلقہ فریقوں کے بنیادی اور طویل المدتی مفاد میں ہے اور یہ بین الاقوامی برادری کی مشترکہ خواہش بھی ہے۔
سن لی نے کہا کہ چین شہریوں پر ہونے والے تمام حملوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے، متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں، شہریوں اور شہری بنیادی سہولتوں کا تحفظ یقینی بنائیں اور جلد امن کے امکانات برقرار رکھنے کے لئے کشیدگی کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران کا بنیادی حل مذاکرات اور بات چیت میں مضمر ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ رابطے برقرار رکھیں، سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں، مذاکرات کے ذریعے باہمی اعتماد اور اتفاق رائے پیدا کریں اور ایک جامع، دیرپا اور قابلِ عمل امن معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ جب تک مذاکرات شروع اور جاری رہ سکتے ہیں امن کی امید باقی رہتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ روس، یوکرین اور یورپی ممالک ایک دوسرے کے ہمسایہ ہیں اور وہ اپنی جغرافیائی حقیقت تبدیل نہیں کر سکتے، اس لئے پرامن بقائے باہمی اور مشترکہ سلامتی ہی واحد حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر چین کا موقف ہمیشہ مستقل رہا ہے اور وہ جنگ بندی اور لڑائی کے خاتمے کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین روس، یوکرین اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے، فعال سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور امن مذاکرات کے فروغ کے لئے اپنے انداز میں وسیع پیمانے پر کردار ادا کر رہا ہے۔
سن لی نے کہا کہ چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر بحران کے سیاسی حل کو آگے بڑھانے کے لئے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔


