ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکسربیا اور چین کا مصنوعی ذہانت اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے شعبوں...

سربیا اور چین کا مصنوعی ذہانت اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط کرنے کا عزم

بلغراد (شِنہوا) سربیا اور چین کے حکام نے ایک کانفرنس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی ہوئی جو اب تک بنیادی طور پر بنیادی شہری سہولتوں اور صنعت پر مرکوز رہا ہے۔

"سربیا اور چین -مستقبل کی جانب پیش قدمی” کے عنوان سے منعقدہ یہ کانفرنس بلغراد میں سربیا کی قومی اسمبلی میں ہوئی، جس میں ارکان پارلیمنٹ، سفارت کاروں، کاروباری رہنماؤں، سربیا کے انوویشن فنڈ اور سربیا میں قائم چینی چیمبر آف کامرس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تحقیق، تعلیم اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سربیا کی قومی اسمبلی کی نائب سپیکر اور چین کے ساتھ پارلیمانی دوستی گروپ کی سربراہ مرینا راگس نے کہا کہ دونوں ممالک کی شراکت داری اب ٹیکنالوجی پر مبنی جدت کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم تانبے اور سونے کی کان کنی کے مرحلے سے آگے بڑھ کر اب ڈیٹا مائننگ کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

سربیا میں چینی سفیر لی منگ نے کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت دونوں ممالک اور ان کی کاروباری برادریوں کے درمیان تعاون کے لئے نئے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، کمپیوٹنگ اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین کی پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت کان کنی، پیداوار، توانائی اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں منصوبوں کے باعث چین سربیا میں براہ راست سرمایہ کاری کے اہم ترین ذرائع میں شامل ہو چکا ہے۔ لی منگ کے مطابق چینی کمپنیوں نے سربیا میں 40 ہزار سے زائد ملازمتیں پیدا کی ہیں اور اب وہ ملک کی اقتصادی ترقی میں 20 فیصد سے زیادہ حصہ ڈال رہی ہیں۔

سربیا میں چینی چیمبر آف کامرس کے صدر یانگ ڈونگ نے کہا کہ مستقبل کا تعاون چین کی تکنیکی مہارت اور سربیا کی انجینیئرنگ صلاحیتوں کو یکجا کرنے پر مبنی ہونا چاہیے جبکہ ادارہ جاتی نظم ونسق کے اعلیٰ معیارات کو بھی برقرار رکھا جائے۔

یانگ ڈونگ نے کہا کہ قوانین کی پاسداری، دیانت داری اور شفافیت سربیا میں چینی کمپنیوں کی بقا اور ترقی کے بنیادی اصول ہیں۔

بلغراد میں قائم بیلٹ اینڈ روڈ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر بوجان لالک نے تعلیمی تعاون اور مشترکہ تربیتی پروگراموں کو وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے تعلیم اور باصلاحیت افرادی قوت کی تیاری ناگزیر ہے۔

انوویشن فنڈ کے نمائندوں نے کہا کہ وہ آزمائشی منصوبوں، ٹیکنالوجی کی تجارتی بنیادوں پر ترقی اور اختراعی کمپنیوں کے لئے نئے مالیاتی ماڈلز کے ذریعے چینی شراکت داروں کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے تیار ہیں۔ فنڈ کے نمائندوں اور چینی سفیر لی منگ، دونوں نے بلغراد میں ہونے والی سپیشلائزڈ ایکسپو 2027 کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جہاں دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی پر مبنی بڑھتے ہوئے تعاون کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

دونوں ممالک کے حکام نے کانفرنس کو اپنی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد روایتی شعبوں سے آگے بڑھتے ہوئے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جدت کے میدان میں تعاون کو فروغ دے کر دوطرفہ تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں