ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکآستانہ میں "شی جن پھنگ: چین کا طرز حکمرانی" کی پانچویں جلد...

آستانہ میں "شی جن پھنگ: چین کا طرز حکمرانی” کی پانچویں جلد کی تشہیری تقریب کا انعقاد

آستانہ (شِنہوا) قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں "شی جن پھنگ: چین کا طرز حکمرانی” کی پانچویں جلد کی تشہیری تقریب منعقد ہوئی۔

شرکاء نے کہا کہ اس کتاب کی پانچویں جلد میں نئے دور کے لئے چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم سے متعلق شی جن پھنگ کے افکار کی تازہ ترین کامیابیاں پیش کی گئی ہیں اور یہ ایک مستند تصنیف ہے جو عالمی برادری کو چینی جدیدیت اور معاصر چین کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اور قازقستان جدیدیت کی راہ کے ہم سفر ہیں اور شی جن پھنگ کی اہم تصانیف کو محور بنا کر دونوں ممالک کے درمیان حکمرانی کے تجربات کے تبادلے کو فروغ دینے، چین۔قازقستان مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے لئے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قازقستان کے صدر کے ایگزیکٹو آفس کے محکمہ داخلی پالیسی کے سربراہ ایلنور بیسن بائیف نے کہا کہ اس کتاب کی تقریب دونوں ممالک کی تہذیبوں کے درمیان باہم سیکھنے کے عمل میں ایک نئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

بیسن بائیف نے کہا کہ قازقستان اپنے قومی حالات کے مطابق اقتصادی اور سماجی اصلاحات کے ایک سلسلے پر عملدرآمد کر رہا ہے اور اپنی جدیدیت کے عمل کو تیز کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدیدیت کی راہ پر گامزن ہونے کے حوالے سے دونوں ممالک میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔

بیسن بائیف نے مزید کہا کہ اس کتاب میں پیش کردہ طرز حکمرانی کا فلسفہ اور ترقیاتی حکمت عملیاں قازقستان کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔

قازقستان کے صدر کے ماتحت سنٹرل کمیونیکیشنز سروس کے سربراہ عسکر عمروف نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران چین نے معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت، قانون کی حکمرانی اور سفارت کاری سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور قازقستان کے لئے چین کے تجربات کا گہرائی سے مطالعہ اور ان سے رہنمائی حاصل کرنا مفید ہوگا۔

عمروف نے کہا کہ اس کتاب کی پانچویں جلد معاصر چین کی ترقی کی اہم سمتوں کی عکاسی کرتی ہے اور قازقستان جتنا زیادہ چین کی ترقی کی منطق اور اس کے طویل المدتی اہداف کو سمجھے گا، دونوں ممالک کے درمیان تبادلوں اور تعاون کے نتائج اتنے ہی زیادہ مثبت ہوں گے۔

قازقستان میں چائنہ سٹڈیز سنٹر کی ڈائریکٹر گلنار شائمر جینووا نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے باوجود چین عالمی اقتصادی ترقی کا ایک اہم محرک اور بین الاقوامی استحکام کے لئے ایک کلیدی قوت بنا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شی جن پھنگ کی تصانیف کا درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور انہیں دنیا بھر میں وسیع توجہ حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شی جن پھنگ کے افکار نے عالمی اتفاق رائے کو فروغ دینے اور عالمی ترقی کو درپیش بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

تقریب کے دوران چینی وفد نے قازق مہمانوں کو "شی جن پھنگ: چین کا طرز حکمرانی” کی چوتھی جلد کے قازق زبان میں ترجمے اور پانچویں جلد کے روسی زبان میں ترجمے کے نسخے پیش کئے۔

دونوں ممالک کے تھنک ٹینکس، کاروباری اداروں اور جامعات کے نمائندوں نے اس موقع پر عملی تعاون سے مقامی آبادی کو پہنچنے والے فوائد سے متعلق اپنے تجربات بیان کئے۔

شریک ماہرین نے چین۔قازقستان مشترکہ مستقبل کی حامل برادری اور اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون سمیت مختلف موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

اس تقریب کا اہتمام چین کے ریاستی کونسل کے اطلاعاتی دفتر، چائنہ انٹرنیشنل کمیونیکیشنز گروپ اور قازقستان میں چینی سفارت خانے نےمشترکہ طور پر کیا۔ تقریب میں دونوں ممالک کے اشاعتی اداروں، ذرائع ابلاغ، تھنک ٹینکس، جامعات، کاروباری اداروں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں