"وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہبازی”
علامہ محمد اقبال کا یہ شعر محض شاعرانہ تخیل نہیں بلکہ قوموں کی نفسیات، تہذیبوں کے عروج و زوال اور قیادت کے بحران کا ایسا آئینہ ہے جس میں ہر دور اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے۔ اقبال نے "شاہیں” کو خودداری، بلند نظری، آزادی، جرات، کردار اور مسلسل جدوجہد کی علامت بنایا، جبکہ "کرگس” ایسے ذہن کی نمائندگی کرتا ہے جو مردہ پرستی، مفاد پرستی، کم ہمتی اور دوسروں کے سہارے جینے کا عادی ہو۔
المیہ یہ نہیں کہ شاہین کمزور ہو گیا؛ اصل المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی اصل شناخت ہی بھول بیٹھا۔ جب شاہین کرگسوں کے درمیان پرورش پاتا ہے تو وہ اپنی فطری صلاحیتوں، بلند پروازی اور خود اعتمادی سے محروم ہو جاتا ہے۔ پھر اسے یہی زندگی معمول، یہی سوچ حقیقت اور یہی ماحول تقدیر محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ ذہنی غلامی ہے جسے اقبال سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ بھی اسی فکری بحران سے گزر رہا ہے۔ ہماری تعلیمی ترجیحات، سماجی رویے، سیاسی ثقافت اور ادارہ جاتی ڈھانچے اکثر نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیت، تنقیدی فکر، خود انحصاری اور قومی ذمہ داری پیدا کرنے کے بجائے نقل، مصلحت، وقتی مفاد اور شخصیت پرستی کو فروغ دیتے ہیں۔ نتیجتاً صلاحیت موجود ہونے کے باوجود اعتماد مفقود اور امکانات وسیع ہونے کے باوجود سمت دھندلا جاتی ہے۔
اقبال کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ انسان کے اندر پوشیدہ "شاہین” کو بیدار کرنا ہے۔ ایسی تعلیم جو کردار، بصیرت، جراتِ فیصلہ اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا نہ کر سکے، وہ معاشرے میں ہنر مند افراد تو پیدا کر سکتی ہے مگر صاحبِ کردار قیادت نہیں۔
یہ شعر ہماری سیاسی اور انتظامی قیادت کے لیے بھی ایک واضح پیغام رکھتا ہے۔ جو قیادت نظریات کے بجائے مفادات، قومی خدمت کے بجائے ذاتی اقتدار، اور اصولوں کے بجائے وقتی مصلحتوں کو اپنا شعار بنا لے، وہ قوم کو شاہین نہیں بلکہ کرگس بننے کی تربیت دیتی ہے۔ قومیں اپنے رہنماؤں کے کردار، اداروں کی شفافیت اور اجتماعی اقدار سے تشکیل پاتی ہیں۔
معاشی میدان میں بھی یہی حقیقت کارفرما ہے۔ جو قومیں تحقیق، اختراع، محنت اور پیداواری معیشت کو اپناتی ہیں وہ شاہین کی مانند اپنے بل بوتے پر بلند ہوتی ہیں، جبکہ قرضوں، برآمدی انحصار، قلیل مدتی منصوبہ بندی اور غیر پیداواری طرزِ فکر پر انحصار کرنے والی معیشتیں کرگس کی نفسیات سے باہر نہیں نکل سکتیں۔
پاکستان آج بے شمار چیلنجز سے دوچار ہے، مگر ان سے کہیں بڑا چیلنج ذہنی اور فکری آزادی کا ہے۔ وسائل کی کمی سے زیادہ خطرناک وژن کی کمی ہے۔ نوجوانوں کی تعداد سے زیادہ اہم ان کی فکری تربیت ہے۔ اگر نئی نسل کو خود اعتمادی، تحقیق، دیانت، نظم، قومی شعور اور بلند مقاصد سے آراستہ نہ کیا گیا تو بہترین صلاحیتیں بھی محدود ماحول میں اپنی شناخت کھو بیٹھیں گی۔
اقبال کا پیغام مایوسی نہیں بلکہ بیداری کا اعلان ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ شاہین کی فطرت کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی؛ اسے صرف اپنی اصل پہچان اور اپنی منزل کا شعور درکار ہوتا ہے۔ جب قومیں اپنی تہذیبی بنیادوں، علمی روایت، اخلاقی اقدار اور اجتماعی مقصد سے دوبارہ جڑ جاتی ہیں تو ان کی پرواز کو کوئی طاقت محدود نہیں کر سکتی۔
میرے نزدیک آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو محض کامیاب پیشہ ور نہیں بلکہ باکردار انسان بنائیں؛ اپنے تعلیمی اداروں کو ڈگری فیکٹریوں کے بجائے کردار سازی کے مراکز بنائیں؛ اپنی سیاست کو اقتدار کی کشمکش سے نکال کر قومی خدمت کا ذریعہ بنائیں؛ اور اپنی معیشت کو انحصار کے بجائے خود کفالت کی بنیاد پر استوار کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو اقبال کے "شاہین” کو دوبارہ آسمانوں کی وسعتوں سے ہمکنار کر سکتا ہے۔
اقبال کا یہ شعر دراصل ہر فرد سے ایک سوال کرتا ہے: کیا ہم واقعی شاہین ہیں، یا کرگسوں کے درمیان رہتے رہتے اپنی اصل شناخت فراموش کر چکے ہیں؟ اس سوال کا جواب ہی ہمارے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔


