16 جون کو وفاقی آئینی عدالت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کے حوالے سے بنیادی طور پر حکومتِ پاکستان کی اپیل زیرِ سماعت آئے گی، جو وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کے حکم کے خلاف دائر کی گئی ہے۔
قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ” (بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔)
عدل صرف ایک قانونی اصطلاح نہیں بلکہ ریاست، معاشرے اور تہذیب کی بقا کا ایک بنیادی ستون ہے۔ جب کسی معاشرے میں عدل کمزور پڑ جائے تو طاقتور محفوظ اور کمزور بے سہارا ہو جاتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں غربت سے نہیں بلکہ انصاف کے فقدان سے تباہ ہوتی ہیں۔
حالیہ دنوں وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے میں وزیرِ اعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف کارروائی کی اپیل مسترد کیے جانے کی خبریں منظرِ عام پر آئیں۔ یہ فیصلہ قانونی اور آئینی دائرہ کار میں دیا گیا ہوگا، تاہم اس مقدمے نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے کہ آخر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ محض ایک فرد کا مقدمہ ہے یا پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری کا امتحان؟
ڈاکٹر عافیہ کا نام اب پوری پاکستانی قوم کے لئے ایک نام، ایک داستان، ایک سوال بن چکا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک ایسی اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی خاتون ہیں جن کا نام گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی سیاسی، قانونی اور انسانی حقوق کی بحثوں کا حصہ بنا ہوا ہے۔ ان کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں، مختلف عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں اور مختلف ممالک جیسے کہ امریکہ اور پاکستان کے اپنے اپنے مؤقف ہیں، لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے ان کا معاملہ پاکستانی عوام کے جذبات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی ان کے مقدمے میں کوئی نئی پیش رفت سامنے آتی ہے تو لاکھوں پاکستانیوں کے دلوں میں امید، اضطراب اور سوالات ایک ساتھ جنم لیتے ہیں۔
جہاں تک ریاست اور شہری کے رشتہ کا تعلق ہے تو ریاست اور شہری کے درمیان تعلق صرف آئینی نہیں بلکہ اخلاقی اور تہذیبی بھی ہوتا ہے۔ اگر محض آئینی لحاظ سے دیکھا جائے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین شہری اور ریاست کے مابین سماجی معاہدہ کی حیثیت سے آرٹیکل 5 کے تحت ایک شہری سے اپنے وطن سے وفاداری، قانون کی پابندی اور قومی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا عہد لیتا ہے جبکہ ریاست اس کے جان و مال، عزت اور بنیادی حقوق کے تحفظ اور ایک جائز آئینی حکومت کی ضامن بنتی ہے۔
ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں، عمارتوں یا خزانے میں نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے اعتماد اور ان کے آئینی حقوق کی بلا رکاوٹ ترسیل اور عزت نفس کے احترام میں ہوتی ہے۔ جب شہری یہ محسوس کرے کہ مشکل ترین حالات میں بھی اس کا وطن اس کے ساتھ کھڑا ہے تو قومی یکجہتی مضبوط ہوتی ہے۔
عدل اور قانون کی عملدرآمد کے حوالے سے یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ عدالتیں جذبات کے بجائے قانون اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ جج کا منصب عوامی خواہشات کا ترجمان بننا نہیں بلکہ آئین اور قانون کی تشریح کرنا ہے۔ لہٰذا کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس پر علمی اور قانونی تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن عدلیہ کے وقار اور قانونی عمل کا احترام جمہوری معاشروں کی بنیادی ضرورت اور طرہ امتیاز ہوتا ہے۔
عدل کا تقاضا یہ ہے کہ ہم انصاف مانگتے ہوئے خود بھی انصاف کے اصولوں کو پامال نہ کریں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسے معاملات قوموں کا امتحان کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ دراصل پوری قوم کے ساتھ ساتھ ارباب اختیار کے سامنے سوال در سوال
عرصہ دراز سے کھڑا ہے جو کہ ہر حساس اور باشعور شہری کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتا ہے۔ کہ
کیا ہم بحیثیت قوم اپنے ہر شہری کے آئینی حقوق کے لیے یکساں حساس ہیں؟
کیا ہم صرف مشہور مقدمات پر آواز اٹھاتے ہیں یا ہر مظلوم کے لیے انصاف چاہتے ہیں؟
کیا ہمارے سیاسی اختلافات ہمیں انسانی ہمدردی سے دور تو نہیں کر دیتے ہیں؟
یہ سوالات صرف حکومتوں یا عدالتوں سے نہیں بلکہ ہم سب سے متعلق ہیں۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
اسلام میں انصاف کا معیار رشتہ، نسل، زبان یا حیثیت نہیں بلکہ حق اور سچائی ہے۔
حضرت عمرؓ کا وہ تاریخی جملہ آج بھی دنیا کے حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے:
"اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔"
یہ احساسِ جوابدہی ہی دراصل اسلامی طرزِ حکمرانی اور اپنی ذمہ داری ادائیگی کی حقیقی روح ہے اور معاشرے میں
امید کا چراغ بھی۔
مایوسی مؤمن کا شیوہ نہیں۔
قرآنِ کریم فرماتا ہے:
"لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ"
"اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔"
عدالتوں کے فیصلے آتے رہتے ہیں، مقدمات کے مراحل طے ہوتے رہتے ہیں، لیکن انصاف کی جستجو اور حق کے لیے پُرامن جدوجہد کبھی ختم نہیں ہونی چاہیے۔ قوموں کی تاریخ میں بہت سے ایسے مقدمات ملتے ہیں جن میں بظاہر بند دروازے بعد میں کھل گئے اور ناممکن دکھائی دینے والے راستے ممکن بن گئے۔
آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ خواہ قانونی اعتبار سے جس مرحلے میں بھی ہو، اس نے ہمیں ایک اہم سبق دیا ہے کہ ایک مہذب قوم کی اصل پہچان اپنے کمزور اور بے بس شہریوں کے ساتھ اس کا رویہ ہوتا ہے۔
اگر ہم ایک مضبوط، باوقار اور اسلامی فلاحی ریاست کا خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں عدل، انسانی وقار اور ریاستی ذمہ داری کے اصولوں کو ہر سطح پر زندہ کرنا ہوگا۔ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں، بلکہ انصاف، اعتماد اور احساسِ ذمہ داری سے زندہ رہتی ہیں۔ عدل ہو تو ریاست مضبوط ہوتی ہے، اور جب ریاست اپنے شہریوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے لگے تو قومیں تاریخ میں امر ہو جاتی ہیں۔


