بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت ماحولیات و ماحولیاتی تحفظ اور قومی ترقی و اصلاحات کمیشن سمیت 6 سرکاری اداروں نے مشترکہ طور پر 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030)کے دوران ٹھوس فضلے سے پیدا ہونے والی آلودگی کی روک تھام اور اس پر موثر کنٹرول کے لئے ایک جامع منصوبہ جاری کیا ہے۔
منصوبے کے مطابق 2030 تک چین کا ہدف ہے کہ اہم شعبوں میں ٹھوس فضلے کی آلودگی پر قابو پانے میں نمایاں پیش رفت حاصل کی جائے، گزشتہ برسوں سے جمع شدہ فضلے کو موثر انداز میں نمٹایا جائے، ٹھوس فضلے کو غیر قانونی طور پر پھینکنے اور ٹھکانے لگانے کے عام رجحان پر قابو پایا جائے اور ٹھوس فضلے کے جامع انتظام کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں بہتری لائی جائے۔
منصوبے میں یہ ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے کہ 2030 تک اہم شعبوں پر مشتمل ڈیجیٹل نگرانی کا ایک مربوط نظام قائم کیا جائے اور متعدد "زیرو ویسٹ سٹیز” تعمیر کئے جائیں۔
اس منصوبے میں فوری نوعیت کے مسائل کے حل اور منظم طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے، جس کے تحت ماحولیاتی خطرات کی نشاندہی اور ان کا تدارک کیا جائے گا، جبکہ ٹھوس فضلے کے انتظام کے پورے نظام پر نگرانی کو مزید موثر بنایا جائے گا۔
منصوبے میں غیر قانونی طور پر ٹھوس فضلہ پھینکنے، کارسٹ غاروں میں ڈالے گئے فضلے، فاسفو جپسم کے ذخیرہ گاہوں، شہری ٹھوس فضلے کے لینڈفل مقامات اور خطرناک فضلے کے لینڈفلز کے لئے خصوصی اقدامات بھی تجویز کئے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ،منصوبے میں صنعتی اور خطرناک فضلے، استعمال شدہ برقی و الیکٹرانک مصنوعات، نئی توانائی کے پرانے آلات اور گھریلو، تعمیراتی اور زرعی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے ٹھوس فضلے کے موثر انتظام کے لئے بھی واضح تقاضے مقرر کئے گئے ہیں۔


