ہومتازہ ترینآبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کے بعد امریکہ اور ایران کے...

آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان نئے حملوں کا تبادلہ

واشنگٹن (شِنہوا) امریکی سنٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف 7 گھنٹے تک جاری رہنے والی فضائی کارروائی مکمل کر لی ہے جس کے دوران آبنائے ہرمز اور ایران کے ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کئے جانے کے چند گھنٹے بعد کی گئی۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت میں واقع امریکی علی السالم فضائی اڈے پر ایم کیو-9 ڈرون کے مقام کو نشانہ بنایا۔

آئی آر جی سی نے کہا کہ اس کے علاوہ اس نے اردن کے الازرق اڈے پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ بحرین میں امریکی 5ویں بحری بیڑے کے اڈے پر قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز، بحری معاونت کے انتظامی مرکز، گوداموں اور ایندھن کے ذخائر کو بھی بدھ کے روز ’’فیصلہ کن جواب‘‘ دیتے ہوئے تباہ کر دیا گیا۔

آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک ’’امریکہ کی شرانگیزیوں کا خاتمہ‘‘ نہیں ہو جاتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ اگر تہران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو امریکہ آئندہ ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنائے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ مسلسل امریکی حملوں کے بعد ایران کی فوجی صلاحیت ’’بہت کم سطح‘‘ تک محدود ہو چکی ہے اور یہ حملے ’’اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک میں نہ کہوں کہ اب کافی ہے۔‘‘

دریں اثنا ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں ان کے نمائندوں کا ایرانی حکام سے رابطہ بھی ہوا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں