امریکی کالجوں کے 38 طلبہ کے ایک گروپ نے بدھ کے روز چین کے شہر چھونگ چھنگ میں واقع اسٹِل ویل میوزیم کا دورہ کیا جہاں دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپانی فسطائیت کے خلاف چین اور امریکہ کی مشترکہ جدوجہد کی یادوں کو محفوظ رکھا گیا ہے۔
چین اور امریکہ کے درمیان دیرینہ دوستی کو قریب سے جاننے کے بعد ان نوجوان مہمانوں نے چینی طلبہ کے ساتھ مزید قریبی تبادلوں اور مستقبل میں تعاون کے لئے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): لیو اِکسز، امریکی کالج کی طالبہ
’’میرے خیال میں چین اور امریکہ کے تعلقات کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ماضی میں ہم پہلے ہی ایک دوسرے کی مدد کر چکے ہیں۔ جب بھی ہم ایک دوسرے سے اپنے ان تعلقات کا ذکر کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے روابط مضبوط بنانے یا فاصلے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسا ہرگز نہیں کہ یہ کوئی نئی بات ہے۔ درحقیقت ہم نے ماضی میں یہ کام کامیابی سے مکمل کیا۔ اس لئے میں یہی کہوں گی کہ میرے نزدیک سب سے اہم بات یہی ہے کہ ہم اپنے ماضی کو یاد رکھیں۔ ہم ایسا پہلے بھی کر چکے ہیں۔ ہم ہمیشہ ماضی کا جائزہ لے کر مستقبل کے لئے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ایون کولچاک ہارڈی، امریکی کالج کی طالبہ
’’میرے خیال میں اس عجائب گھرنے مجھے یہ احساس دلایا ہے کہ چین اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ماضی کی دوستیوں کو آج کے حالات و واقعات میں بھی ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔‘‘
چھونگ چھنگ، چین سےشِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


