ہومتازہ ترینمصنوعی تصاویر کی شناخت میں 40 سے 80 فیصد بہتری

مصنوعی تصاویر کی شناخت میں 40 سے 80 فیصد بہتری

اسکاٹ لینڈ (لارڈ میڈیا) مصنوعی ذہانت کی ترقی نے جعلی تصاویر کی شناخت کو مشکل بنا دیا ہے، مگر نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مخصوص علامات پر توجہ دے کر لوگ ان تصاویر کی شناخت میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف ایبرڈین کی ڈاکٹر کلیئر سدرلینڈ اور آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی پروفیسر ایمی ڈاول نے برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے محققین کے ساتھ مل کر یہ تحقیق کی۔

تحقیق کے دوران شرکا کو 6 خصوصیات پر توجہ دینا سکھایا گیا، جن میں غیر معمولی یکسانیت، چہرے کے تناسب، غیر معمولی خوبصورتی، منفرد خصوصیات کا فقدان، جذباتی تاثرات کی کمی اور یاد رہ جانے والی شخصیت کا فقدان شامل ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جعلی تصاویر کی شناخت کے لیے مختلف خصوصیات کو مجموعی طور پر دیکھنا ضروری ہے، اور کوئی ایک علامت 100 فیصد ثبوت نہیں ہوتی۔

شرکا کی شناخت کی صلاحیت تربیت کے بعد اوسطاً 40 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 80 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ چند افراد نے تقریباً 100 فیصد درست نتائج حاصل کیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان مناسب تربیت سے اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کو بہتر شناخت کر سکتے ہیں، تاہم مصنوعی ذہانت بھی مسلسل سیکھ رہی ہے اور یہ چیلنج پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں