صنعا (لارڈ میڈیا): یمن کے دارالحکومت صنعا میں یمنی فورسز نے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا تاکہ حوثی باغیوں کے زیر قیادت ایرانی طیارے کو لینڈ کرنے سے روکا جا سکے۔ یمنی حکومت کے مطابق، یہ کارروائی حوثی باغیوں کی جانب سے یمن کی قومی ایئرلائن کے طیاروں کو صنعا میں اترنے سے روکنے کے جواب میں کی گئی۔ حوثی تحریک نے ان حملوں کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
یمنی حکومت نے حوثیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایرانی طیارے کو لینڈ کرنے کی اجازت دے رہے ہیں، جو کہ یمنی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے میں یمنی وزارت دفاع نے ایئرپورٹ کے عملے اور شہریوں کو ایئرپورٹ کے اطراف سے ہٹنے کی ہدایت کی تھی۔
یمن میں یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب پر ایرانی طیارے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ یمنی وزیر دفاع محسن الدائری نے کہا ہے کہ حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور آئندہ خلاف ورزی کرنے والے طیارے کے خلاف تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی کے باعث اقوام متحدہ نے اس ملک کو اکیسویں صدی کا ہولناک ترین انسانی بحران قرار دیا ہے۔ 2022 میں ایک عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی تھی، لیکن تازہ واقعات نے خطے میں کشیدگی کو پھر بڑھا دیا ہے۔


