ہومتازہ ترینشنگھائی نے عالمی روبوٹکس طاقت بننے کی کوششیں تیز کر دیں

شنگھائی نے عالمی روبوٹکس طاقت بننے کی کوششیں تیز کر دیں

شنگھائی (شِنہوا) موسیقی کی دھن پر ایک انسان نما روبوٹ مہارت سے ٹانگیں پھیلا کر بیٹھنے کا انداز انجام دیتا ہے۔ چند ہی لمحوں بعد یہ سکیورٹی گشت کی ذمہ داری سنبھال لیتا ہے اور غیر مجاز افراد کی درست شناخت کرتا ہے۔

شنگھائی میں قائم انسان نما روبوٹ بنانے والی ایک نمایاں سٹارٹ اپ کمپنی ایجی بوٹ میں پیش کئے گئے اس مظاہرے نے ایک تیزی سے ترقی کرتی صنعت کی جھلک دکھائی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جدید روبوٹ محض تجرباتی نمونے نہیں رہے بلکہ تجارتی کامیابیوں کی جانب بڑھ چکے ہیں۔

ایجی بوٹ کے مجسم کاروباری شعبے کے سربراہ یاؤ ماؤ چھنگ نے کہا کہ ’’ہمارے پاس صنعتی سامان کی منتقلی، لاجسٹکس چھانٹی اور سکیورٹی گشت کے لئے متعدد روبوٹ ماڈلز موجود ہیں۔‘‘

اگرچہ مجسم روبوٹ کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن بڑے پیمانے پر پیداوار اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم ایجی بوٹ اس رکاوٹ کو غیر معمولی رفتار سے عبور کر رہی ہے۔

کمپنی کے سپلائی چین کے سینئر نائب صدر ژان کون نے بتایا کہ ’’گزشتہ ماہ ہمارا عمومی مقصد کے لئے تیار کردہ 15 ہزارواں مجسم روبوٹ پروڈکشن لائن سے باہر آیا۔‘‘ کمپنی 2023 میں صرف 6 تجرباتی یونٹس سے شروع ہوئی، مارچ 2026 میں 10 ہزار یونٹس تک پہنچی اور اس کے 3 ماہ سے بھی کم عرصے بعد 15 ہزار کا ہندسہ عبور کر لیا۔ ’’فیکٹری سے نکلتے ہی فوری ترسیل اور تنصیب‘‘ اب ایجی بوٹ کے لئے حقیقت بن چکی ہے۔

کمپنی کی ترقی شنگھائی کی جدید ترین صنعتوں کو فروغ دینے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شہر کے 15ویں 5 سالہ منصوبے (2026-2030) میں روبوٹ کے استعمال، آلات کے باہمی رابطے اور پیداواری عمل کی ڈیجیٹلائزیشن و ذہین اپ گریڈنگ کو وسعت دینے پر زور دیا گیا ہے۔ مخصوص فنڈنگ اور اے آئی پلس اقدام کی مدد سے شنگھائی مجسم مصنوعی ذہانت والے روبوٹس کو حقیقی دنیا کے استعمال میں آگے بڑھا رہا ہے۔

شنگھائی کی یہ پیش رفت چین کی وسیع تر قومی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔ چین کے 15ویں 5 سالہ منصوبے (2026-2030) کے تحت مجسم مصنوعی ذہانت کو اقتصادی ترقی کے ایک نئے محرک کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

2025 تک چین میں 140 سے زائد انسان نما روبوٹ بنانے والی کمپنیاں موجود تھیں جن کی ترسیلات 14 ہزار 400 یونٹس تک پہنچ گئیں اور عالمی مارکیٹ میں ان کا حصہ 84.7 فیصد تھا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں