جنیوا (شِنہوا) سوئٹزرلینڈ میں اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں چین کے مستقل نمائندے جیا گوئی دے نے مصنوعی ذہانت کی نظم ونسق سے متعلق اقوام متحدہ کے پہلے عالمی مکالمے کے افتتاحی اجلاس میں "مصنوعی ذہانت کے تفاوت کو کم کرنا” کے موضوع پر خطاب کیا۔
جیا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ممالک کی ترقی کے منظرنامے اور عالمی نظم ونسق کے ڈھانچے کو گہرے انداز میں تبدیل کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام فریقوں کو مشترکہ فائدے اور شمولیت کو بنیاد بناتے ہوئے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو برقرار رکھنا چاہیے اور استعداد کار بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ ایک ایسا ڈیجیٹل اور ذہین مستقبل تشکیل دیا جا سکے جو جامع، کھلا، پائیدار، منصفانہ، محفوظ اور قابل اعتماد ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل خودمختاری کا مطلب یہ ہے کہ ممالک کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ کسی دباؤ یا کسی ایک فریق کا ساتھ دینے پر مجبور کئے بغیر اپنی مرضی سے مصنوعی ذہانت کی مصنوعات اور خدمات کا انتخاب کر سکیں۔
جیا نے زور دیا کہ چین، جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں استعداد کار بڑھانے کا حامی، فروغ دینے والا اور پیش رو ہے، عالمی مصنوعی ذہانت گورننس اقدام پیش کر چکا ہے اور مختلف ممالک کو اے آئی کے فوائد سے مستفید ہونے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین 2026 کی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور عالمی اے آئی گورننس سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی میزبانی کرے گا اور اسے امید ہے کہ تمام فریق اس میں بھرپور شرکت کریں گے تاکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق تفاوت کو کم کیا جا سکے۔


