ہومتازہ تریندھمکیاں جاری رہیں تو امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع نہیں ہوں گے،...

دھمکیاں جاری رہیں تو امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع نہیں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

تہران (شِنہوا) ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے دھمکیاں جاری رہیں تو ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔
انہوں نے یہ بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہی۔ یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا پھر "کام مکمل کرے گا” جبکہ انہوں نے ایران کے پلوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی اپنی سابقہ دھمکیوں کا بھی اعادہ کیا۔
عراقچی نے حال ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ دستخط ہونے والے امن سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے پیراگراف 13 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا "اگر دھمکیاں جاری رہیں تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔ اپنے دستخط کا احترام کریں۔” اس پیراگراف میں حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع کرنے کے لئے مختلف شرائط بیان کی گئی ہیں، جن میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر مشترکہ حملے کئے تھے۔ اس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں اور دیگر اہداف پر میزائلوں اور ڈرونز کے متعدد حملے کئے۔
ایران اور امریکہ نے 18 جون کو اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک نے حتمی معاہدے کی جانب پیش رفت کے لئے مذاکرات کا آغاز کر دیا تھا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں