برسلز (لارڈ میڈیا): نیٹو نے اپنی فضائی نگرانی کو جدید بنانے کے لیے سویڈن کی دفاعی کمپنی صاب کے گلوبل آئی طیاروں کا انتخاب کیا ہے، جو امریکی کمپنی بوئنگ کے بجائے منتخب کیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بڑا سفارتی اور دفاعی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے اتحادی ممالک پر امریکی دفاعی سازوسامان خریدنے کے لیے زور دیا تھا۔
نیٹو نے منگل کو 4.5 ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت اتحاد 10 گلوبل آئی فضائی نگرانی اور قبل از وقت انتباہ دینے والے طیارے خریدے گا۔ یہ طیارے سرد جنگ کے دور کے ایواکس طیاروں کی جگہ لیں گے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ نئے طیارے جدید نظام سے لیس ہوں گے جو ڈرونز جیسے نئے خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نیٹو کی فضائی نگرانی اور وارننگ کی صلاحیت کو مضبوط رکھے گا۔
مارک روٹے نے یہ بھی واضح کیا کہ سویڈن کی کمپنی صاب کے اس منصوبے میں یورپی، کینیڈین اور امریکی صنعتوں کی شراکت شامل ہے، جسے نیٹو کی مشترکہ کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپی اتحادیوں پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ ٹرمپ نے ماضی میں نیٹو سے الگ ہونے کی دھمکی بھی دی تھی۔
گلوبل آئی طیارے کا مقابلہ امریکی بوئنگ کے E-7 Wedgetail سے تھا، لیکن نیٹو نے سویڈش نظام کو ترجیح دی۔ اس اعلان کے بعد صاب کے حصص میں 4 فیصد اضافہ ہوا۔
صاب کے چیف ایگزیکٹو میکائل جوہانسن نے کہا کہ اگر معاہدہ جلد طے پا جاتا ہے تو کمپنی 2030 سے طیاروں کی فراہمی شروع کر سکتی ہے۔ ہر طیارے کی متوقع قیمت 40 کروڑ سے 45 کروڑ ڈالر کے درمیان ہوگی۔


