کولمبو (شِنہوا) سری لنکا کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ عالمی نظم ونسق کے بارے میں چینی صدر شی جن پھنگ کا وژن گلوبل ساؤتھ کے مشترکہ تحفظات کا جواب ہے۔
بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سری لنکا کے بانی ڈائریکٹر مایا ماجیوران نے ان خیالات کا اظہار حال ہی میں سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں "شی جن پھنگ: دی گورننس آف چائنہ” کی پانچویں جلد کے متعلق چائنہ-سری لنکا ریڈرز سیمینار کے دوران کیا۔
ماجیوران نے شِنہوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ بہت سے لوگ یہ مانتے ہیں کہ بین الاقوامی اداروں میں گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی نمائندگی ان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور سیاسی وزن کے مقابلے میں اب بھی غیر متناسب ہے۔ تاہم آج یہ صورتحال بدل رہی ہے۔ گلوبل ساؤتھ بین الاقوامی امور کے مستقبل کو سنوارنے میں تیزی سے اپنی آواز بلند کر رہا ہے۔
ماجیوران نے کہا کہ اسی تناظر میں "شی جن پھنگ: دی گورننس آف چائنہ” کی پانچویں جلد ترقی پذیر دنیا کے ایک بڑے حصے میں بڑھتی ہوئی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کتاب عالمی نظم ونسق کے لئے چین کا وژن پیش کرتی ہے، جو مشترکہ ترقی، مشترکہ سلامتی، تہذیبوں کے درمیان باہم سیکھنے کے عمل اور کثیر الجہتی تعاون کے گرد گھومتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ترقیاتی اقدام بین الاقوامی تعاون میں ترقی کو مرکزیت دیتا ہے اور گلوبل ساؤتھ کے بہت سے ممالک کی فوری ترجیحات کا جواب دیتا ہے، جن میں غربت کا خاتمہ، صنعت کاری، انفراسٹرکچر، غذائی تحفظ، ڈیجیٹل منتقلی اور ماحول دوست ترقی شامل ہیں۔
ماجیوران نے کہا کہ عالمی تہذیبی اقدام تہذیبوں کے درمیان باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے اور مکالمے، ثقافتی تبادلے اور باہم سیکھنے کے عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نظریات اس لئے اثر انگیز ہیں کیونکہ یہ ایک حقیقی کثیر القطبی دنیا کے لئے گلوبل ساؤتھ کی خواہشات کے عین مطابق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "اس کا مقصد ایک ایسا بین الاقوامی ماحول پیدا کرنا ہے جہاں ممالک اپنی شراکت داریوں میں تنوع لانے، اپنی ترجیحات کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن ہونے اور کسی بھی ایک جغرافیائی سیاسی بلاک کے ساتھ کھڑے ہونے پر مجبور ہوئے بغیر آزادانہ طور پر خودمختار فیصلے کرنے کے لئے آزاد ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر دنیا کے بہت سے ممالک اب تیزی سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کی خوشحالی اور سلامتی کا انحصار کسی ایک جغرافیائی سیاسی اتحاد کے ساتھ وابستگی کے بجائے سٹریٹجک خودمختاری پر ہے۔


