شنگھائی (شِنہوا) چین کے انسان نما روبوٹس کی پیداوار رواں سال ایک لاکھ یونٹس سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے نائب ڈائریکٹر گان شیاؤبن نے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس (ڈبلیو اے آئی سی) 2026 سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چین میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال اور مضبوط ماحولیاتی نظام نے روبوٹکس کی صنعت کو تیزی سے فروغ دیا ہے جو ملک کی اعلیٰ معیار کی اقتصادی ترقی کے لئے نئی رفتار پیدا کر رہا ہے۔
گان شیاؤبن نے بتایا کہ چین کے مقررہ حجم سے بڑے صنعتی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ قومی اے آئی صنعتی سرمایہ کاری فنڈ اس شعبے میں مزید سماجی سرمایہ کاری راغب کرنے کے لئے اپنی سرگرمیاں تیز کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں سے بہت سی نئی اختراعات ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس 2026 کے دوران پیش کی جائیں گی جو 17 سے 20 جولائی تک شنگھائی میں منعقد ہوگی۔
’’روشن مستقبل کے لئے مصنوعی ذہانت کی شراکت داری‘‘ کے موضوع پر ہونے والی اس کانفرنس میں 6 بڑے شعبے شامل ہوں گے جن میں فورمز، نمائشیں، جدیدیت کے فروغ اور ٹیلنٹ کے تبادلے جیسے پروگرام شامل ہیں۔ اس تقریب میں ایک ہزار 100 سے زائد نمائش کنندگان شرکت کریں گے جبکہ 3 ہزار سے زیادہ مصنوعات اور نمونے پیش کئے جائیں گے جن میں 300 سے زائد مصنوعات پہلی بار عالمی سطح پر متعارف کرائی جائیں گی۔


