ہومتازہ ترینچین عالمی نظام و نسق میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے،...

چین عالمی نظام و نسق میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، بیلاروسی ماہر

منسک (شِنہوا) بیلاروسی انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک ریسرچ کی تجزیہ کار اناستاسیا ساوینیخ نے کہا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) نے گزشتہ 105 سالوں میں چین کو عالمی نظم و نسق میں ایک اہم کردار ادا کرنے والی قوت میں تبدیل کر دیا ہے۔
شِنہوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں ساوینیخ نے کہا کہ چین بین الاقوامی امور میں اپنے نمایاں کردار کے ساتھ عالمی نظم و نسق بہتر بنانے، اقتصادی و سماجی ترقی اور بین الاقوامی تبادلوں کو فروغ دینے میں کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
ماہر نے وضاحت کی کہ چین کے پیش کردہ عالمی ترقی، سلامتی، تہذیب و تمدن اور طرز حکمرانی کے اقدامات کو ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور دیگر خطوں کے کئی ممالک کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات کثیر الجہتی تعاون، ترقی کے متنوع راستوں کے احترام اور باہمی رابطے بڑھانے کو فروغ دیتے ہیں۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں شہری چائنہ نیشنل کنونشن سنٹر میں منعقدہ ‘ڈیجیٹل اکانومی انڈسٹری ایکسپو 2026’ کا دورہ کر رہے ہیں۔ (شِنہوا)

ماہر نے زور دیا کہ چین کا دوسرے ممالک کے ساتھ مکالمہ مساوات اور باہمی احترام پر مبنی ہے جو ان طریقوں کے برعکس ہے جو جدیدیت کو بیرونی سیاسی شرائط کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
انہوں نے انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تعمیر کے چینی تصور کی بھی تعریف کی اور کہا کہ یہ ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی بین الاقوامی نظام کی بنیاد کے طور پر باہمی احترام، ترقی، سلامتی اور ثقافتی تنوع پر زور دیتا ہے۔
ساوینیخ نے چین کی تاریخی تبدیلی کو ممکن بنانے کے لئے سی پی سی کی قیادت کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ ’’چین کا منفرد طریقہ کار جس میں روایتی ثقافت، سوشلسٹ اصول، طویل المدتی منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کیا گیا ہے، کے سبب صنعتی ترقی، اصلاحات، غربت کا خاتمہ اور جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ممکن ہوئی، اس نے چین کو صنعت، سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی تجارت کا ایک کلیدی مرکز بنا دیا ہے۔‘‘

چین کے جنوب مغربی صوبہ گوئی ژو کی کائی یانگ کاؤنٹی کے زی شنگ سب ڈسٹرکٹ میں غربت کے خاتمے کے لئے قائم نئی قیام گاہ میں کمیونٹی رضاکار ایک معذور خاتون کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔(شِنہوا)

تجزیہ کار نے غربت کے خاتمے میں چین کی کامیابی کو اجاگر کیا اور اسے ایک قابل ذکر کارنامہ قرار دیا جس نے بہت سے ترقی پذیر ممالک کو درپیش ایک بڑا مسئلہ حل کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آمدن میں اضافہ کے علاوہ اس پیش رفت نے دیہی جدیدیت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور نقل و حمل کو بھی فروغ دیا جس سے کروڑوں لوگوں کے لئے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
ساوینیخ نے کہا کہ عالمی عدم استحکام کے بڑھتے ماحول میں چین کی ترقی کا استحکام برقرار رکھنے کی صلاحیت قابل ذکر ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں