اسلام آباد (لارڈ میڈیا): امریکا اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا اگلا دور دو ہفتوں کے اندر متوقع ہے۔ العربیہ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس دور میں ایران پر لگی عالمی پابندیوں کو ہٹانے اور ایران کے ایٹمی پروگرام پر گفتگو ہوگی۔
گزشتہ 22 جون کو پاکستان اور قطر کی ثالثی میں بلواسطہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ہوئے تھے، جس میں دونوں ممالک نے 60 روز میں معاہدے کی جانب پیش رفت کے روڈ میپ پر اتفاق کیا تھا۔ سعودی عرب کے سرکاری نیوز چینل کے مطابق اگلا دور 11 جولائی کو اسلام آباد میں ہوگا۔
پاکستان کے مؤقر انگریزی اخبار نے سفارتی ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹیکنیکل مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد یا سوئٹزرلینڈ میں ہوگا، لیکن اسلام آباد کے چانسز زیادہ ہیں۔
سینیئر صحافی کامران یوسف نے ذرائع سے بتایا ہے کہ ایرانی قیادت اسلام آباد کو مذاکرات کے لیے اہمیت دیتی ہے کیونکہ پاکستان کے ایران اور خلیجی ریاستوں سے بہترین تعلقات ہیں۔
ماضی میں امریکا اور ایران کے باضابطہ مذاکرات کا آغاز بھی اسلام آباد میں ہوا تھا، تاہم کئی اہم معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔
پاکستان نے اپنی سفارتی سرگرمیاں جاری رکھیں اور نتیجتاً مذاکراتی عمل دوبارہ بحال ہوا اور 18 جون کو جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔


