غزہ (شِنہوا) غزہ کی پٹی کے انتظام کے لئے قائم 15 رکنی عبوری فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی نے پیر کے روز اس بات کا اظہار کیا ہے کہ حماس کی جانب سے غزہ میں اپنی انتظامی باڈی تحلیل کئے جانے کے بعد وہ علاقے کا انتظام سنبھالنے کے لئے تیار ہے۔
کمیٹی کے سربراہ علی شاط نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ کمیٹی "مکمل طور پر تیار” ہے کہ "جیسے ہی ضروری وسائل اور صلاحیتیں دستیاب ہوں گی” وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لے گی۔
شاط نے کہا کہ کمیٹی کی کامیابی کے لئے بنیادی تقاضے "ایک واحد اتھارٹی، واضح اختیارات کے ساتھ ایک ہی قانون اور اسی واحد اتھارٹی کے ماتحت ایک ہی مسلح فورس” ہیں۔
یہ بیان حماس کی جانب سے اسی روز غزہ میں اپنی گورنمنٹ ایمرجنسی کمیٹی تحلیل کرنے اور علاقے کا انتظام فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے حوالے کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔
غزہ میں حماس کے زیر انتظام میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل ثوابتہ نے وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گورنمنٹ ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔
ثوابتہ نے کہا کہ فلسطینی دھڑوں کے درمیان قاہرہ میں طے پانے والے روڈ میپ کے مطابق انتظامی اور تکنیکی خلا سے بچنے کے لئے صرف تکنیکی اور پیشہ ورانہ عملہ اپنے عہدوں پر برقرار رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام "جاری جنگ، تعمیر نو میں تاخیر، مسلسل محاصرے، سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور اسرائیلی فوج کے انخلا میں ناکامی کے باعث شہریوں کو درپیش مشکلات میں کمی لانے” کے لئے اٹھایا گیا ہے۔
ثوابتہ نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے غزہ میں داخلے اور انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے ضروری اقدامات کو جلد از جلد مکمل کریں۔


