اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وزارتِ تجارت نے ایران کے ساتھ تجارت میں مخصوص برآمدی اشیاء پر 60 روزہ عارضی رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ رعایت 2 جولائی سے 30 اگست 2026 تک نافذ العمل ہوگی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال کی منظوری سے برآمدی پالیسی 2022 کی شق نمبر 3 کے تحت ادائیگی کی لازمی شرط میں عارضی نرمی دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست بینکاری چینل نہ ہونے کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ برآمدی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ اس رعایت کے تحت ایران کو فضائی راستے سے کیلا، آم اور گوشت برآمد کرنے والوں کو سہولت حاصل ہوگی، جبکہ زمینی راستے سے چاول، آلو، جیلاٹن، مکئی، تل اور مویشیوں کی خوراک کی برآمد پر بھی یہ رعایت لاگو ہوگی۔
ذرائع کے مطابق وسطی ایشیائی ممالک اور آذربائیجان کو ایران کے راستے چاول برآمد کرنے والوں کو بھی اسی سہولت سے فائدہ حاصل ہوگا۔ برآمدات کی رقم پاکستان واپس لانا بدستور لازمی ہوگا، جبکہ برآمد کنندگان کو تحریری یقین دہانی بھی کرانا ہوگی کہ وہ مقررہ مدت میں زرِ مبادلہ ملک میں واپس لائیں گے۔
ذرائع نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ایران کے ساتھ مکمل بینکاری نظام بحال کرنے یا ہر قسم کی بینکنگ تجارت کی اجازت دینے سے متعلق نہیں، بلکہ صرف چند مخصوص برآمدی اشیاء کے لیے محدود مدت کی خصوصی رعایت ہے، جبکہ زرِ مبادلہ سے متعلق تمام قوانین بدستور نافذ العمل رہیں گے۔


