ہومانٹرنیشنلپلیسنٹا اسمگلنگ کیس، انسانی نال سے اینٹی ایجنگ انجکشنز بنائے جانے کا...

پلیسنٹا اسمگلنگ کیس، انسانی نال سے اینٹی ایجنگ انجکشنز بنائے جانے کا انکشاف

اسلام آباد (لارڈ میڈیا): انسانی پلیسنٹا اسمگلنگ کیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ انسانی نال کو اینٹی ایجنگ انجکشنز کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ حکام نے ویتنام جانے والی 100 کلو کی کھیپ کی برآمد روک دی ہے۔

تحقیقات کے دوران ایف آئی اے نے لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں مبینہ ایجنٹس کی نشاندہی کی ہے اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے ممکنہ کردار کی چھان بین شروع کر دی ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق 100 کلوگرام کی کھیپ کو ویتنام روانہ ہونے سے روک دیا گیا ہے اور کسٹمز اہلکاروں کے ممکنہ ملوث ہونے کی تحقیقات جاری ہیں۔

پلیسنٹا، جسے ‘نال’ کہا جاتا ہے، حمل کے دوران ماں کے رحم میں بنتا ہے اور زچگی تک ماں اور بچے کے درمیان لائف لائن کا کردار ادا کرتا ہے۔ طبی قوانین کے مطابق اسے طبی فضلہ مانا جاتا ہے اور مخصوص طریقوں سے تلف ہونا چاہیے۔

پاکستان کے ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت انسانی جسم کے کسی بھی عضو کی تجارتی خرید و فروخت ممنوع ہے۔ 24 جون کو ایف آئی اے اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی نے انسانی اعضاء کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت پر اسلام آباد میں چھاپہ مارا تھا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں