کیف (لارڈ میڈیا): روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر رات بھر ڈرونز اور میزائلوں سے شدید حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوگئے۔
روسی افواج نے جمعرات کی شب کیف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملہ کیا، جس میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتایا ہے کہ حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ شہر بھر میں تقریباً تین درجن مقامات کو نقصان پہنچا۔
کیف کے میئر ویتالی کلچکو نے کہا کہ 34 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایمبولینس اسٹیشن کے طبی عملے اور ڈرائیور بھی شامل ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق شہر میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ وسطی شیوچینکو بلیوارڈ پر واقع ایک ہوٹل کی بالائی منزل پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ کئی علاقوں میں عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔
حملوں کے دوران فضائی خطرے کے سائرن بجنے پر شہری بچوں، ضروری سامان اور اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔
یہ حملہ جون کے وسط کے بعد یوکرین پر روس کا سب سے بڑا فضائی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے حملوں کے خدشے کے پیش نظر آئرلینڈ کا اپنا دورہ مختصر کر دیا۔
ادھر یوکرین کی امریکا میں سفیر اولہا اسٹیفانیشینا نے حملے کو کیف کے شہریوں کے لیے ایک اور ہولناک رات قرار دیا ہے۔
نیٹو اور یورپی یونین کے رکن ممالک پولینڈ اور فن لینڈ نے احتیاطی اقدامات کے طور پر اپنی فضائی نگرانی بڑھا دی ہے۔ پولینڈ نے مختصر وقت کے لیے جنگی طیارے فضا میں بھیجے، تاہم بعد میں بتایا کہ اس کی فضائی حدود کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
فن لینڈ نے بھی عارضی فضائی پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ روس کے شمال مغربی لینن گراڈ ریجن کے گورنر الیگزینڈر دروزدینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے سات یوکرینی ڈرونز مار گرائے۔


