ہومانٹرنیشنلروس میں پیٹرول بحران، بھارت سے تیل کی خریداری شروع

روس میں پیٹرول بحران، بھارت سے تیل کی خریداری شروع

ماسکو (لارڈ میڈیا): روس نے پیٹرول کی شدید قلت کو دور کرنے کے لیے سمندری راستے سے بھارت سے پیٹرول منگوانا شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام یوکرین کی جانب سے روس کے بجلی اور توانائی کے نظام پر حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس کی وجہ سے روس کے کارخانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس وقت روس کے تمام علاقوں میں پیٹرول کی شدید کمی ہے، جس کے باعث پیٹرول پمپس پر لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں اور ملک میں پیٹرول کی قیمتیں ریکارڈ حد تک بڑھ گئی ہیں۔

کریملن نے تصدیق کی ہے کہ روس دوسرے ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور مناسب قیمتوں پر پیٹرول منگوانے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ تیل کی صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق، بھارت سے کم از کم 60 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول روس کے لیے روانہ کیا جا چکا ہے۔ ایک اور ذریعے نے بتایا کہ 30 سے 40 ہزار ٹن پیٹرول سے لدے دو بڑے بحری جہاز روس بھیجے گئے ہیں۔

روس ہر مہینے مختلف ممالک سے کل چار لاکھ ٹن پیٹرول منگوانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں بیلاروس بھی شامل ہے۔ گرمیوں میں پیٹرول کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہے اور روس میں روزانہ کم از کم ایک لاکھ دس ہزار ٹن پیٹرول استعمال ہوتا ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن نے وزراء کے ساتھ ملاقات میں تسلیم کیا ہے کہ یوکرین کے حملوں کی وجہ سے کچھ علاقوں میں پیٹرول کی کمی ہوئی ہے، لیکن روس اس مسئلے کو حل کر رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ روس بھارت سے بنا بنایا پیٹرول خرید رہا ہے، جبکہ بھارت روس سے خام تیل منگوا رہا ہے۔ جون میں بھارت نے روس سے روزانہ 27 لاکھ بیرل خام تیل خریدا، جو اس کی کل ضرورت کا آدھے سے زیادہ بنتا ہے۔ بھارت نے یہ قدم آبنائے ہرمز کا سمندری راستہ بند ہونے کے بعد اٹھایا ہے۔

روسی پارلیمنٹ نے اپنے ٹیکس قوانین میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ پیٹرول کی کمی کو دور کیا جا سکے اور باہر سے آنے والے پیٹرول پر سبسڈی دی جا سکے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں