ہومتازہ ترینچین کے انقلابی گہوارے ’’روئی جِن‘‘ نے جدید دور میں ترقی کی...

چین کے انقلابی گہوارے ’’روئی جِن‘‘ نے جدید دور میں ترقی کی نئی داستان رقم کر دی

چین کے صوبہ جیانگ شی کا شہر روئی جِن چینی انقلاب کے گہوارے کے طور پر جانا جاتا ہے۔یہاں سال 1930 کی دہائی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ(سی پی سی) نے عوام پر مبنی طرزِ حکمرانی کو عملی جامہ پہنایا تھا۔

کئی دہائیاں گزرنے کے بعد ضلعی حیثیت رکھنے والا یہ شہر اب بھی عوام کی خدمت کے لئے پارٹی کے غیر متزلزل عزم کی زندہ مثال بنا ہوا ہے۔

اسٹینڈ اپ (انگریزی): پینگ جِنگ، نمائندہ شِنہوا

"90 برسوں سے بھی زیادہ پہلے اسی سادہ سے آبائی ہال میں چین کی تاریخ کی ایک غیر معمولی سیاسی قوت کو وجود ملا تھا۔”

سال1931 میں عوامی جمہوریہ چین کی پیش رو چینی سوویت جمہوریہ کی عبوری مرکزی حکومت اسی مقام پر قائم کی گئی تھی۔

یہ مقام کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی انقلابی سرگرمیوں کے ابتدائی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): دینگ ژانگ شان، ٹور گائیڈ، روئی جِن

’’سال 1931 کے بعد تقریباً اگلے تین برسوں کے دوران عبوری مرکزی حکومت نے 120 سے زائد قوانین اور ضوابط نافذ کئے۔ زمینی اصلاحات سے لے کر معاشی ترقی اور تعلیم سے سماجی نظم و نسق تک کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ نے اس دور افتادہ پہاڑی علاقے میں کئی تاریخی نوعیت کے عملی تجربات کئے۔ ان تجربات کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ عوام بہتر اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔ اس سے پارٹی کے عوام کی خدمت پر مبنی حکمرانی کے بنیادی نصب العین کی عکاسی ہوئی۔‘‘

90 برسوں سے بھی زیادہ پہلے ہواوُو صرف 43 گھرانوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ اس گاؤں سے تقریباً ہر خاندان نے اپنا ایک فرد سرخ فوج (ریڈ آرمی) میں بھیجا۔

خاص طور پر اُن 17 ریڈ آرمی سپاہیوں کی داستان آج بھی لوگوں کو یاد ہے جنہوں نے جنگ پر روانہ ہونے سے پہلے صنوبر کے درخت لگائے تھے مگر پھر وہ کبھی ہواوُو واپس نہ آ سکے۔

جغرافیائی تنہائی اور محدود وسائل کے باعث ہواوُو کے رہائشیوں کی زندگی کئی برسوں تک مشکلات کا شکار رہی۔

سال 2012 میں سابقہ مرکزی سوویت علاقوں کی ترقی کو نئی رفتار دینے کے لئے متعدد پالیسیاں متعارف کرائی گئیں۔

انہی پالیسیوں کی بدولت ہواوُو بھی ان متعدد دیہات میں شامل ہو گیا جہاں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔

حکومت کی مالی معاونت سے یہاں نئے مکانات تعمیر کئے گئے، سڑکیں پختہ ہوئیں جبکہ فٹنس سینٹر اور طبی مرکز جیسی عوامی سہولتیں بھی قائم کی گئیں۔

اس کے ساتھ ساتھ نئے صنعتی شعبے بھی فروغ پانے لگے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): ہوا شیاؤ یِنگ، ’’ہوا ماما‘‘ بانی، اچار برانڈ، ہواوُو گاؤں

"گزشتہ چند برسوں سے میں اچار تیار کر رہی ہوں تاکہ غربت سے نجات ملے اور ایک بہتر زندگی کا آغاز کر سکوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہماری ہاکا برادری کی روایتی اچار سازی کی ثقافت بھی محفوظ رہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): ہوا گوئی چِنگ، رہائشی، ہواوُو گاؤں

"جب سے انہوں نے اچار بنانا شروع کیا ہے ہم اپنی کھیرے کی فصل انہیں فروخت کرتے ہیں۔ اس سے ہمیں ہر ماہ تقریباً سات سے آٹھ ہزار یوآن کی آمدنی ہو جاتی ہے۔”

آج صنوبر کے 17 درخت ایک زندہ یادگار بن گئے ہیں اور دور دراز سے لوگ انقلابی بزرگوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے یہاں آتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): ہوا شینگ، پارٹی چیف، ہوانگ شا گاؤں

’’ہم سبز معیشت اور ‘سرخ’ صنعتوں کی مشترکہ ترقی کو فروغ دے رہے ہیں جس میں دیہی سرخ سیاحت کی ترقی بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم گاؤں کی اجتماعی معیشت کو مسلسل مضبوط بنا رہے ہیں اور دیہاتیوں کی آمدنی میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔‘‘

روئی جِن کے قدیم شہر میں سو سال پرانا شیانگ ہُولی علاقہ ایک زمانے میں خستہ حالی کا شکار تھاجہاں عمارتیں بوسیدہ ہو چکی تھیں اور بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر تھا۔

سال 2023 میں روئی جِن نے اس تاریخی علاقے کی بحالی کا منصوبہ شروع کیا جس کے تحت بنیادی سہولتوں میں جدت لائی گئی اور روایتی طرزِ تعمیر کو بھی اصل شکل میں بحال کیا گیا۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): ژونگ شو پِنگ، پارٹی چیف، شیانگ ہو سب ڈسٹرکٹ، روئی جِن

’’اس منصوبے کا بنیادی مقصد پانی اور بجلی کی فراہمی جیسی عوامی خدمات میں موجود بڑی کوتاہیوں کو دور کرنا، شہری خدمت مراکز اور اسمارٹ کمیونٹیز سمیت شہری سہولتوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ روایتی عمارتوں اور تاریخی علاقوں کو نئی زندگی دینا ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 6 (چینی): لائی ہوان، کاروباری خاتون، شیانگ ہُولی

’’تزئین و آرائش کے بعد پورا علاقہ ہی بدل گیا ہے اور ہر چیز نئی اور تروتازہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ واقعی بہت خوبصورت بن گیا ہے۔ کاروبار بھی خوب چل رہا ہے اور میرے خیال میں حکومت نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ اب یہاں بڑی تعداد میں سیاح آ رہے ہیں۔‘‘

ایک زمانے میں بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اس قدیم انقلابی مرکز کی ترقی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔

لیکن اب نقل و حمل کے ایک مکمل اور جدید نظام نے روئی جِن کے لئے ترقی کے نئے دروازے کھول دئیے ہیں۔

ضلعی حیثیت کے اس شہر میں سڑکوں کی مجموعی لمبائی اب تین ہزار کلومیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔ گزشتہ برس ستمبر میں یہاں کا ہوائی اڈہ بھی آمد و رفت کے لئے باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا۔

اس کے علاوہ روئی جِن کو گوانگ ڈونگ، ہانگ کانگ اور مکاؤ عظیم تر خلیجی علاقے (جی بی اے) سے ملانے والی ریلوے لائن بھی زیرِ تعمیر ہے۔

یہ شہر مستقبل کی صنعتوں کو بھی پہلے ہی فروغ دے رہا ہے جہاں ایک ’لائٹس آؤٹ‘ فیکٹری (جہاں زیادہ تر پیداواری عمل خودکار نظام کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے) عظیم تر خلیجی علاقے میں قائم اپنی مرکزی فیکٹری کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ پیداواری استعداد کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 7 (چینی): لیو شُو جی، پروڈکشن منیجر، جیانگ شی ژونگ جی انٹیلی جنٹ مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ

’’شاہراہوں، تیز رفتار ریلوے اور ہوائی رابطوں کی ترقی کے بعد روئی جِن کا عظیم تر خلیجی علاقے کے قریب ہونا ایک مسابقتی برتری بن چکا ہے۔ ہم روئی جِن میں صنعتیں منتقل کرنے کے لئے نہیں بلکہ انہیں جدید اور زیادہ ترقی یافتہ بنانے کے لئے آئے ہیں۔‘‘

یہ شہر جو کبھی دور افتادہ سمجھا جاتا تھا اب نئے دور میں بہتر بنیادی ڈھانچے اور تیز رفتار ترقی کی بدولت اپنے لئے نئی راہیں متعین کر رہا ہے جس سے یہاں کے باسیوں کے لئے زیادہ خوشحالی اور وسیع تر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

روئی جِن، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں