واشنگٹن (شِنہوا) امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم نامے کو مسترد کر دیا جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن یا عارضی رہائشیوں کے بچوں کو پیدائش کی بنیاد پر ملنے والی شہریت سے محروم کیا جانا تھا، عدالت نے پیدائشی شہریت کے قانون کو برقرار رکھا ہے۔
چیف جسٹس جان رابرٹس کے جاری عدالتی فیصلے کے مطابق شہریت تب بھی اور اب بھی حقوق حاصل کرنے کا حق تھی تا کہ ہماری برادری کے سیاسی عمل میں آزادانہ حصہ لیا جا سکے۔ چودھویں ترمیم کے بانیوں نے یہ وعدہ اس دھرتی پر پیدا ہونے والے ہر آزاد شخص سے کیا تھا اور ہم آج یہ وعدہ برقرار رکھ رہے ہیں۔
یہ فیصلہ 3 کے مقابلے میں 6 کی اکثریت سے ہوا جس میں تین قدامت پسند ججوں نے تین لبرل ججوں کا ساتھ دے کر اکثریتی فیصلہ تشکیل دیا۔
امریکہ کی چودھویں آئینی ترمیم کی توثیق 1868 میں کی گئی تھی جو امریکی خانہ جنگی کے بعد آزاد ہونے والے غلاموں کے مسائل کے حل کے لئے لائی گئی اور اس کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ سابقہ غلاموں سمیت سیاہ فام افراد کو شہریت حاصل ہو۔
آئینی ترمیم کے مطابق وہ تمام افراد جو ریاست ہائے متحدہ میں پیدا ہوئے یا جنہوں نے یہاں کی شہریت حاصل کی اور وہ اس کے دائرہ اختیار کے تابع ہیں، وہ ریاست ہائے متحدہ اور اس ریاست کے شہری ہیں جہاں وہ مقیم ہیں۔
پیدائشی شہریت ختم کرنے کے اس صدارتی حکم نامے پر ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو دستخط کئے تھے جو ان کی صدارت کی دوسری مدت کے آغاز کا دن تھا۔
اس صدارتی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ امریکہ میں غیر قانونی یا عارضی طور پر موجود افراد کے ہاں پیدا ہونے والے بچے امریکہ کے دائرہ اختیار کے تابع نہیں، اس لئے وہ چودھویں ترمیم یا ‘امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ’ کے تحت شہریت کے اہل نہیں۔
عدالت میں متعدد والدین نے اپنے طور پر اور کچھ نے اپنے بچوں کی طرف سے مقدمات دائر کئے۔ کئی ماتحت عدالتوں نے بھی مدعیان کے حق میں فیصلہ سنایا تھا جس کی وجہ سے یہ صدارتی حکم نامہ کبھی نافذ العمل نہیں ہو سکا۔
ٹرمپ نے منگل کے روز اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اعلیٰ ترین عدالت کا یہ فیصلہ ہمارے ملک کے لئے بہت برا ہے۔


