ہومتازہ ترین چین کی جدت پر مبنی ترقی دنیا بھر کے لئے نئے مواقع...

 چین کی جدت پر مبنی ترقی دنیا بھر کے لئے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، عالمی ماہرین کی رائے

اسٹینڈ اپ 1 (انگریزی): ہونگ لیانگ، نمائندہ شِنہوا

’’اگر رواں برس کے سمر ڈیووس فورم میں سب سے زیادہ زیرِ بحث کوئی اصطلاح ہے تو وہ یقیناً ’جدت‘ ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): کارسٹن فنک، چیف اکانومسٹ، عالمی تنظیم برائے دانشورانہ املاک (ڈبلیو آئی پی او)

’’جدت ایک عالمی عوامی اثاثہ ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): فریڈرک فینٹر، چیف ایگزیکٹو ایڈیٹر، فرنٹیئرز

’’ماحول دوست ٹیکنالوجی میں جدت۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): ٹنڈے لالیے، پارٹنر اینڈ چائنہ جنرل منیجر، بیئرنگ پوائنٹ

’’جدت اس وقت حقیقی اثر دکھاتی ہے جب اسے بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے۔‘‘

اسٹینڈ اپ 2 (انگریزی): ہونگ لیانگ، نمائندہ شِنہوا

’’اور اکثر چین ہی ساری گفتگو کا محور ہوتا ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): جِم ہوائے نیو، منیجنگ ڈائریکٹر، عالمی اقتصادی فورم

’’بہت سے لوگوں نے چین کے اختراعی نظام کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ صرف جدت کا ایک متحرک نظام نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جو صنعتی تبدیلی کی کوششوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): ہینری وانگ، چیف لیگل اینڈ پبلک افیئرز آفیسر، ہربالائف

’’میں نے یہاں چین میں ڈیپ سیک، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز دیکھی ہیں جو واقعی حیران کن ہیں۔‘‘

اسٹینڈ اپ 3 (انگریزی): ہونگ لیانگ، نمائندہ شِنہوا

’’سوال یہ ہے کہ فورم کے شرکاء چین کی اختراعی صلاحیتوں کا کس طرح جائزہ لیتے ہیں اور عالمی برادری چین کی جدت پر مبنی ترقی سے کیسے فائدہ اٹھا سکتی ہے؟‘‘

چین کی اختراعی کامیابیاں صرف سائنسی تحقیقی مقالات تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کا دائرہ مصنوعی ذہانت، بجلی سے چلنے والی گاڑیوں، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ سمیت متعدد صنعتی شعبوں تک پھیل چکا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 6 (انگریزی): فریڈرک فینٹر، چیف ایگزیکٹو ایڈیٹر، فرنٹیئرز

’’آج چین سائنسی علم، اختراعی حقوق، تحقیقی مقالات اور مؤثر سائنسی نتائج پیدا کرنے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ میرے خیال میں صرف ایک نسل کے دوران آنے والی یہ تبدیلی غیر معمولی ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 7 (انگریزی): کارسٹن فنک، چیف اکانومسٹ، عالمی تنظیم برائے دانشورانہ املاک (ڈبلیو آئی پی او)

’’گزشتہ برس چین پہلی بار عالمی اختراعی اشاریے (گلوبل انوویشن انڈیکس) کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہوا۔یہ یقیناً ایک قابلِ ذکر کامیابی ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 8 (انگریزی): ٹنڈے لالیے، پارٹنر اینڈ چائنہ جنرل منیجر، بیئرنگ پوائنٹ

’’چین کو مصنوعی ذہانت کے استعمال میں برتری حاصل ہے۔ مثال کے طور پر وہ اسے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کےشعبے میں بہت تیزی سے لا رہا ہے، بڑے پیمانے پر اسے فروغ دے رہا ہے اور منڈی میں تجارتی بنیادوں پر متعارف کرا رہا ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 9 (انگریزی): فریڈرک فینٹر، چیف ایگزیکٹو ایڈیٹر، فرنٹیئرز

’’میرے خیال میں ماحول دوست ٹیکنالوجی میں جدت ایسا شعبہ ہے جہاں چین کو واضح طور پر ایک ایسا ملک تسلیم کیا جاتا ہے جس نے اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر فروغ دے کر سب سے زیادہ بین الاقوامی فوائد فراہم کئے تاکہ ساری دنیا کے لوگوں کی بہترین فلاح و بہبود ممکن ہو۔‘‘

چین میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھی چین کی تیز رفتار اور وسیع پیمانے پر ہونے والی اختراعات سے نمایاں فوائد حاصل کئے ہیں۔

ان میں سے بہت سی کمپنیوں نے چین میں اپنے تحقیق و ترقی کے مراکز بھی قائم کئے جہاں وہ مقامی باصلاحیت افرادی قوت، مضبوط صنعتی بنیاد اور رسد کے مربوط نظام سے فائدہ اٹھا کر اپنی اختراعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا رہی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 10 (انگریزی): پونٹس ایرنٹیل، سی ای او، صدر و چیف سسٹین ایبلٹی آفیسر، آئی کے ای اے چین

’’ہم نے کئی برس پہلے یہاں ایک ڈیجیٹل مرکز قائم کیا تھا۔ اسی مرکز میں ہم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی منصوبہ بندی کے ایسے ٹولز تیار کئے جنہیں بعد ازاں ہماری تمام مختلف منڈیوں میں متعارف کرایا گیا تاکہ صارفین کو بہتر طریقے سے خدمات فراہم کی جا سکیں۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 11 (انگریزی): ہینری وانگ، چیف لیگل اینڈ پبلک افیئرز آفیسر، ہربالائف

’’ہمارا ایک جدت کا مرکز شنگھائی میں قائم ہے۔ یہ مرکز صرف چین ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے فائدے کے لئے جدتیں لا رہا ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 12 (انگریزی): کینتھ فریڈرکسن، سی سی او، آکر کرِل کمپنی

’’ہم چین کی منڈی کو اپنی تربیت گاہ سمجھتے ہیں۔ عالمی سطح پر مؤثر رہنے اور مسابقت برقرار رکھنے کے لئے ہمیں چینی منڈی میں اپنی صلاحیتوں کو مسلسل نکھارنا ہوگا۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 13 (انگریزی): کارسٹن فنک، چیف اکانومسٹ، عالمی تنظیم برائے دانشورانہ املاک (ڈبلیو آئی پی او)

’’چین عالمی سطح پر ایک علمی مرکز ہونے کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک غیر معمولی بات ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اب عالمی منڈی کے لئے درکار علم کا زیادہ تر حصہ چین سے حاصل کر رہی ہیں۔ اس لئے میرا یقین ہے کہ اس تعاون میں دونوں فریقوں کے لئے فائدہ ہی فائدہ ہے۔‘‘

اگرچہ باصلاحیت افرادی قوت، ایک مضبوط صنعتی نظام اور رسد کا جامع نظام چین کی اہم طاقتیں ہیں تاہم سمر ڈیووس فورم کے شرکاء اس بات پر متفق ہیں کہ جدت کے حوالے سے چین کی کامیابی کے پیچھے اصل محرک طویل مدتی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 14 (انگریزی): ٹنڈے لالیے، پارٹنر اینڈ چائنہ جنرل منیجر، بیئرنگ پوائنٹ

’’جدت کے فروغ کے حوالے سے چین قومی سطح پر نہایت مضبوط اور واضح اسٹریٹجک منصوبہ بندی رکھتا ہے جو دراصل ملک میں صنعتی ترقی اور رسد کے نظام کی مضبوطی کی بنیاد ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 15 (انگریزی): کارسٹن فنک، چیف اکانومسٹ، عالمی تنظیم برائے دانشورانہ املاک (ڈبلیو آئی پی او)

’’میرے خیال میں چین میں قومی منصوبوں نے ایک ایسا واضح اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کی بدولت جدت کو فروغ ملا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ نئے منصوبے میں بھی یہی سلسلہ برقرار رہے گا۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 16 (انگریزی): کارسٹن فنک، چیف اکانومسٹ، عالمی تنظیم برائے دانشورانہ املاک (ڈبلیو آئی پی او)

’’اور وقت کے ساتھ ساتھ چینی منڈی کے وسیع حجم نے بھی اس عمل کو مزید تقویت دی جس کے نتیجے میں اختراعی نظام میں ایک مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی۔‘‘

دالیان، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں