ہومتازہ ترینترقی پذیر ممالک کے لئے چینی ترقی قیمتی رہنمائی فراہم کرتی ہے،...

ترقی پذیر ممالک کے لئے چینی ترقی قیمتی رہنمائی فراہم کرتی ہے، سعودی ماہر

ریاض (شِنہوا) سعودی ماہر نے کہا ہے کہ چین کی ترقی، جو طویل المدتی منصوبہ بندی، عملی نفاذ اور بدلتے حالات کے مطابق مسلسل خود کو ڈھالنے کے مربوط انداز پر مبنی ہے، ترقی پذیر ممالک کے لئے نہایت اہم اور قابل قدر مثال ہے۔

سعودی عرب کے سنٹر فار ریسرچ اینڈ انٹر کمیونیکیشن نالج میں اقتصادی تحقیق کے شعبے کے سربراہ محمد الصادق نے کہا کہ چین کی ترقی محض ایک تاریخی اتفاق نہیں بلکہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی قیادت میں طویل المدتی کوششوں اور گہرے ترقیاتی تجربے کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لئے چینی تجربے کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ انہیں ترقی کے ممکنہ راستوں کے بارے میں نئے انداز سے سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس مغربی بیانیے سے ہٹنے کی ترغیب دیتا ہے جو طویل عرصے سے معاشی ترقی کو صرف مغربی ماڈل سے وابستہ کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’چینی تجربے نے دنیا کو ثقافتی، انتظامی اور اقتصادی ترقی کا ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔‘‘ تاہم ان کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے ممالک چینی ماڈل کی نقل کریں بلکہ ہر ملک کو اپنے تاریخی، سماجی اور ادارہ جاتی حالات کے مطابق اپنا راستہ اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی تجربے کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تزویراتی وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق چین کی مسلسل پانچ سالہ منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد، ترقیاتی نظم و نسق میں ایک نادر ادارہ جاتی تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی منصوبہ بندی میں طویل المدتی استحکام اور عملی لچک دونوں شامل ہیں۔ اس میں صنعتی جدیدکاری، تکنیکی جدت، ماحول دوست ترقی اور اندرونی طلب میں اضافے جیسے اہداف کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ ملکی اور بین الاقوامی حالات میں تبدیلی کے مطابق پالیسیوں کو بھی ڈھالا جاتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں