جون میں فصلوں کی کٹائی اپنے عروج پر ہے۔ مغربی افریقی ملک گنی کے مغربی انتظامی علاقے بوفا کے ذیلی ضلع کوبا میں سنہری دھان کے کھیتوں کے قریب ایک رائس پروسیسنگ پلانٹ میں ’’چینی ہائبرڈ چاول، گنی میں تیار کردہ‘‘ کے لیبل والے چاول کے تھیلے منڈیوں کی طرف روانگی کے لئے تیار ہیں۔
مقامی کسانوں کے لئے بھرپور فصل کا یہ منظر ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ اگرچہ گنی پانی کے وافر ذخائر اور زرخیز زمین سے مالا مال ہے لیکن بنیادی زرعی ڈھانچے کی کمی اور جدید کاشتکاری کی تکنیکوں کے فقدان کے باعث یہاں طویل عرصے تک فصلوں کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا تھا۔
خوراک کی پیداوار بڑھانے کے نئے طریقے تلاش کرنے کے لئے چین اور گنی نے سال 2019 میں کوبا میں ہائبرڈ چاول کا ایک آزمائشی منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے میں چین کے زرعی ماہرین اور گنی کی وزارتِ زراعت نے مشترکہ طور پر مختلف اقسام کے تجربات کئے اور مقامی حالات سے ہم آہنگ کاشتکاری کی مناسب تکنیکوں کو فروغ دیا۔
گنی میں ییلونگھے ایگریکلچرل کمپنی کے جنرل منیجر ژانگ ژینگ رونگ کا کہنا ہے کہ اس ملک میں قدرتی حالات نہایت سازگار ہیں جبکہ چاول یہاں کے لوگوں کی بنیادی غذاؤں میں شامل ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): ژانگ ژینگ رونگ، جنرل منیجر، ییلونگھے ایگریکلچرل کمپنی، گنی
’’سال 2019 میں ہماری کمپنی گنی میں پہنچی تاکہ چین کی جدید ہائبرڈ چاول ٹیکنالوجی اور اعلیٰ معیار کی اقسام گنی میں متعارف کرائی جائیں جس سے گنی کے عوام غذائی خود کفالت حاصل کر سکیں۔‘‘
سال 2021 میں چینی کمپنی نے کوبا میں ہائبرڈ چاول کی تین اقسام متعارف کرائیں جہاں زرعی ماہرین نے ان اقسام کو کھیتوں میں آزما کر ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔
بوفا پریفیکچر کے کوبا زرعی تحقیقاتی مرکز کے سربراہ سلیمان دیاوارا نے کہا کہ نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ چاول کی تینوں اقسام کوبا کے قدرتی ماحول سے بخوبی ہم آہنگ ہوئیں۔ ان میں سے خاص طور پر دو اقسام نے مقامی ماحول سے بھرپور ہم آہنگی اور زیادہ پیداوار کے ساتھ شاندار کارکردگی دکھائی۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (فرانسیسی): سلیمان دیاوارا، سربراہ، کوبا زرعی تحقیقاتی مرکز، بوفا پریفیکچر
’’سب سے بڑا فرق پیداوار کی صلاحیت اور حاصل ہونے والی مجموعی پیداوار میں ہے۔ ہمارے چاول کی بعض مقامی اقسام فی ہیکٹر تقریباً 3، 4 یا زیادہ سے زیادہ 5 ٹن پیداوار دے سکتی ہیں جبکہ چین کے ہائبرڈ چاول کی پیداوار فی ہیکٹر 8 سے 9 ٹن تک پہنچ جاتی ہے۔ میرے خیال میں یہ فرق انتہائی نمایاں ہے۔‘‘
کئی برسوں کے تجربات اور نمائشی منصوبوں کے بعد چینی ہائبرڈ چاول مقامی ماحول سے بتدریج ہم آہنگ ہو گئے ہیں۔ نمائشی مرکز میں متعارف کرائی گئی اقسام کی تعداد اب بڑھ کر 6 ہو چکی ہےجبکہ سب سے زیادہ فی ہیکٹر پیداوار 9 ٹن تک پہنچ گئی ہے جس نے زرعی شعبے کے مقامی شراکت داروں کو بے حد متاثر کیا ہے۔
زیادہ پیداوار کے علاوہ چینی ہائبرڈ چاول کے معیار کو بھی مقامی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (فرانسیسی): سلیمان دیاوارا، سربراہ، کوبا زرعی تحقیقاتی مرکز، بوفا پریفیکچر
’’اس لئے بنیادی فرق پیداواری صلاحیت اور پیداوار کی سطح میں ہے۔ ہم نے چاول پکا کر اس کا ذائقہ بھی آزمایا۔ چینی ہائبرڈ چاول ذائقے کے اعتبار سے بھی نہایت عمدہ ثابت ہوئے۔‘‘
چینی ہائبرڈ چاول کے ذریعے حاصل ہونے والی زیادہ پیداوار کا سہرا صرف اعلیٰ معیار کے بیجوں کو نہیں جاتا۔ منصوبے کے آغاز پر کوبا کے بہت سے زرعی رقبوں میں آبپاشی کی نہریں بند پڑی تھیں اور نکاسیٔ آب کا نظام بوسیدہ ہو چکا تھا جبکہ روایتی کاشتکاری کے طریقے اب بھی وسیع پیمانے پر رائج تھے۔
گنی پہنچنے کے بعد چین کے زرعی ماہرین نے زرعی آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں حصہ لیا ۔ انہوں نے پنیری کی تیاری، پودوں کی منتقلی، سائنسی بنیادوں پر کھاد کے استعمال کے علاوہ کیڑوں اور بیماریوں کے مؤثر تدارک جیسی جدید زرعی تکنیکیں بھی متعارف کرائیں جس سے کسانوں کو جدید زرعی انتظام کا نظام بتدریج اپنانے میں مدد ملی۔
ژانگ کے مطابق ان کی ٹیم ہر کاشت کے موسم میں تقریباً 100 مقامی کسانوں کو تربیت دیتی ہے تاکہ وہ پیداوار کے پورے عمل میں عملی طور پر شریک ہوں اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فوائد اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال فصل کی کٹائی کے موسم میں ہم چاول چکھنے کی تقریبات منعقد کرتے ہیں اور آس پاس کے کسانوں کے ساتھ مقامی حکام کو بھی مدعو کرتے ہیں۔ جب وہ ہماری فصل دیکھتے ہیں تو اتنے خوش ہوتے ہیں جیسے یہ ان کی اپنی فصل ہو۔
ہائبرڈ چاول کی کاشت میں 40 برس سے زائد کا تجربہ رکھنے والے زرعی ماہر لیو گوانگ یو سال 2020 سے گنی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی تکنیکی تربیت کے پروگراموں میں سرگرمی سے حصہ لیا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): لیو گوانگ یو، زرعی ماہر
’’برسوں کی مسلسل محنت کے بعد جن مقامی کسانوں نے ہماری زرعی تکنیکیں اپنائیں ان کی زرعی آمدنی دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ جب ہم پہلی بار یہاں آئے تھے اس وقت کے مقابلے میں اب بہتر بیجوں اور جدید کاشتکاری کی تکنیکوں کی بدولت زیرِ کاشت رقبہ چار سے پانچ گنا بڑھ چکا ہے۔‘‘
مقامی زرعی حکام کے نزدیک پیداوار میں اضافے کی نسبت تکنیکی صلاحیتوں میں بہتری زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
بوفا پریفیکچر کے محکمۂ زراعت و مویشی پروری کے ڈائریکٹر سیدوبا سیلا کا ماننا ہے کہ چین کی زرعی ٹیکنالوجی کے تعارف سے نہ صرف مقامی زرعی ماہرین کی تربیت کے لئے سازگار مواقع پیدا ہوئے بلکہ مزید کسانوں کو جدید زراعت کے تصورات اور طریقۂ کار سے بھی روشناس ہونے کا موقع بھی ملا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 5 (فرانسیسی): سیدوبا سیلا، ڈائریکٹر زراعت و مویشی پروری، بوفا پریفیکچر
’’خاص طور پر کوبا میں یِی لونگ ہے کمپنی کی آمد سے ہمیں جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لئے بھی سازگار مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اسی لئے ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے تاکہ چین کی مزید جدید زرعی ٹیکنالوجی گنی میں متعارف کرائی جا سکے۔‘‘
اپریل میں گنی کے وزیراعظم امادو اوری باہ نے کوبا میں پیدا ہونے والے ہائبرڈ چاولوں کی ایک بوری چین بھیجی جس پر انہوں نے یہ الفاظ تحریر کئے تھے کہ ’’چاولوں کی یہ بوری گنی اور چین کے درمیان تعاون کی بہترین علامت ہے۔‘‘
ان کے مطابق بوفا پریفیکچر میں ہائبرڈ چاول کا فروغ نہ صرف زرعی تعاون کی ایک نمایاں کامیابی ہے بلکہ اس سے غذائی تحفظ اور زرعی ترقی کے شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان عملی تعاون کے مسلسل فروغ کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔
کوناکری سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


