چین کے غیر مادی ثقافتی ورثے، سیاحتی وسائل اور تخلیقی صنعتوں کی تین روزہ نمائش جمعہ کے روز بوداپست میں شروع ہوئی جس میں چین اور ہنگری سے فنکاروں، ثقافتی اداروں اور سیاحتی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس ایونٹ کو ’’گفتگو اور رابطہ‘‘ کا عنوان دیا گیا۔ 2026 بوداپست ریشم تہذیب کے حوالے سے مکالمہ، چین کے غیر مادی ورثے، سیاحت اور ثقافتی تخلیقی صلاحیت کی یہ نمائش 19 جون سے 21 جون تک بالنا بوداپست کلچرل سینٹر میں منعقد ہوئی۔
تقریب کا اہتمام بوداپست میں چین کے قومی سیاحتی دفتر، چین کی وزارتِ تجارت کے سرمایہ کاری کے فروغ کے ادارے، شِنہوا نیوز ایجنسی کے یورپی علاقائی بیورو اور چائنہ سینٹر فار انٹرنیشنل کلچرل ایکسچینج اینڈ ٹورازم پروموشن نے مشترکہ طور پر کیا۔
نمائش میں چینی مٹی کے فن پاروں، کڑھائی، ریشم سازی کے فنون، چائے کی ثقافت اور ڈیجیٹل تخلیقی کام سمیت روایتی اور جدید چینی ثقافتی مصنوعات کی ایک وسیع رینج پیش کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ثقافتی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے جدید ترین استعمالات کو متعارف کرانے والی تعاملی پیشکشیں بھی نمائش کا حصہ تھیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہنگری میں چین کے سفیر گونگ تاؤ کا کہنا تھا کہ چین اور ہنگری طویل عرصے سے ایک دوسرے کی ثقافتی روایات کا احترام کرتے آئے ہیں اور تعلیم، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں جس سے دوطرفہ تعلقات کی سماجی بنیاد کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے۔
گونگ نے کہا کہ نمائش ہنگری کے مہمانوں کو چینی ثقافت کو گہرائی سےسمجھنے کا موقع دیتی جبکہ ثقافت، سیاحت اور تخلیقی صنعتوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرتی ہے۔
ہنگرین نیشنل کمیشن فار یونیسکو کی صدر کیٹیلِِن بوگیائے نے کہا کہ یہ نمائش ’’ ثقافتوں، روایات، یادوں اور خیالات کے اکٹھے ہونے کے ایک مرکز‘‘ کے طور پر کام کرتی ہے۔
ساؤنڈبائٹ 1 (انگریزی): کیٹیلِِن بوگیائے، صدر، ہنگرین نیشنل کمیشن فار یونیسکو
’’یہ بہت دلچسپ ہے۔ جب ہم چین اور ہنگری کے عوام کے درمیان مکالمے کی بات کرتے ہیں تو بہت سی مماثلتیں سامنے آتی ہیں۔ میں ہمیشہ ان بے شمار مشترک پہلوؤں کو دیکھ کر دنگ رہ جاتی تھی۔ جس انداز سے ہم ردِعمل دیتے ہیں، جس طرح ہم خوبصورتی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ثقافت کی وسعت اور اس کی اہمیت کو سراہتے اور مکالمے کی قدر کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ نہایت خوبصورت نمائش اس ھوالے سے ایک بہترین مثال ہے۔‘‘
بوگیائے نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سال 2026 میں ہنگری کی یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق کنونشن میں شمولیت کی 20ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ انہوں نے زندہ روایات، دستکاری، موسیقی اور ثقافتی رسومات کو ایسی اہم کڑیاں قرار دیا جو مختلف نسلی برادریوں کو آپس میں جوڑتی ہیں۔
ہنگرین چائنیز فرینڈشپ ایسوسی ایشن کی صدر جوڈِت ایوا ناجے نے کہا کہ ثقافت طویل مدتی تعاون کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ساؤنڈبائٹ 2 (انگریزی): جوڈِت ایوا ناجے، صدر، ہنگرین چائنیز فرینڈشپ ایسوسی ایشن
’’اس نمائش کے موقع پر میں نے دستکاری کے نمونے دیکھے جنہوں نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ چینی فنکاروں نے ماضی کی روایات کو جدید تصورات کے ساتھ کس قدر خوبصورتی سے ہم آہنگ کر دیا تھا۔ یہی پہلو میرے لئے سب سے زیادہ دلچسپ تھا۔
میرا خیال ہے کہ ہنگری اور چین کے درمیان تعلقات چاہے سفارتی ہوں، معاشی، سائنسی یا ثقافتی روابط ان سب کی بنیاد ایک دوسرے کی ثقافت کے لئے اعتماد اور کھلے پن پر قائم ہے۔
اس لئے ہمارے درمیان جب باہمی احترام اور کھلا پن موجود ہو اور ہم ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ لیں تو اسی صورت ہم اس قابل ہو سکتے ہیں کہ مستقبل میں زیادہ بہتر انداز میں تعاون کریں۔‘‘
اس پروگرام میں ثقافتی پرفارمنسز، سیاحت کے فروغ کی سرگرمیاں، عصری سرامک آرٹ اور روایتی دستکاریوں کی نمائشیں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ ثقافتی ورثے کے تحفظ، تخلیقی صنعتوں اور ثقافتی رابطے میں نئی ٹیکنالوجیز کے کردار پر مباحثے بھی منعقد ہوئے۔
ساؤنڈبائٹ 3 (انگریزی): ڈیوڈ، ہنگری سے تعلق رکھنے والا مہمان
’’میں دیکھ رہا ہوں کہ ہنگری چینی ثقافت اور چینی فطرت کے لئے کس قدر کھلا پن دکھا رہا ہے۔ مجھے واقعی امید ہے کہ ہم صنعتی، زرعی اور خاص طور پر ثقافتی شعبوں میں اپنے تعلقات کو مزید مضبوطی اور وسعت دے سکتے ہیں۔یقینی طور پر یہی میری خواہش بھی ہے۔‘‘
منتظمین کے مطابق اس ایونٹ کا مقصد عوامی سطح پر روابط کو مزید گہرا کرنا، باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینا اور چین اور ہنگری کے درمیان ثقافتی تعلقات کے مسلسل فروغ میں کردار ادا کرنا ہے۔
بوداپست سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


