علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کی شخصیت اور مشن
آئینِ جواں مرداں: حق گوئی و بے باکی
اقبالؒ نے مردِ مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا:
"آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی”
یہ شعر محض ایک ادبی تخیل نہیں بلکہ تاریخِ اسلام کے ان عظیم کرداروں کی عملی تصویر ہے جنہوں نے حق کی خاطر ہر قربانی قبول کی مگر باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کیا۔ برصغیر کی تاریخ میں ایسی ہی ایک درخشاں شخصیت علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کی ہے، جنہوں نے علم، فکر، استقامت اور حریتِ ضمیر کی ایسی مثال قائم کی جو آج بھی اہلِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ 1797ء میں خیرآباد (ضلع سیتاپور، اودھ) میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے عہد کے ممتاز عالمِ دین، فلسفی، منطق دان، شاعر، ادیب اور مفسر تھے۔ عربی و فارسی علوم پر غیرمعمولی دسترس رکھتے تھے اور علمی حلقوں میں آپ کا شمار برصغیر کے جلیل القدر علماء میں ہوتا تھا۔ آپ نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ عقلی علوم میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا اور متعدد علمی تصانیف یادگار چھوڑیں۔
1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھی۔ جب انگریز استعمار نے ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط کر لی اور مسلمانوں سمیت پورے خطے کی سیاسی و تہذیبی شناخت کو مٹانے کی کوشش شروع کی تو بہت سے لوگ خوف، مصلحت یا خاموشی کا شکار ہو گئے۔
واقعہ کربلا کو 1,346 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ دردناک جنگ 10 اکتوبر 680 عیسوی (10 محرم 61 ہجری) کو حضرت امام حسینؓ اور ان کے 72 وفادار ساتھیوں اور یزید کی فوج کے درمیان میدانِ کربلا (موجودہ عراق) میں پیش آئی تھی۔ ہر دور میں حق و باطل کے معرکے جاری رہتے ہیں اور قرآن پاک کی سورہ الواقعہ کے مصداق "آگے بڑھنے والے اور دائیں جانب والے” اللہ کے پسندیدہ بندے موجود ہوتے ہیں۔ دور غائب کے یزید و شمر پر لعن طعن کرنے والے ہر دور میں کروڑوں موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ دور حاضر کے یزید و شمر کے سامنے بہت سے لوگ خوف، مصلحت یا خاموشی کا شکار ہونے والے بھی کروڑوں مل جائیں گے۔
چہ گوارہ (14 جون 1928 – 09 اکتوبر 1967) ارجنٹائنین مارکسسٹ انقلابی، گوریلا رہنما، اور کیوبا انقلاب کے کلیدی کردار تھے۔ جنھیں سی آئی اے کی مدد سے دوران تحویل گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، نے کہا
"میں نے قبرستانوں میں بے شمار ایسے لوگوں کی قبریں دیکھیں جنہوں نے حق بات کہنے سے اس لئے اجتناب برتا کہ کہیں وہ مار نہ دیئے جائیں” بہرحال
‘بات پہنچی تری جوانی تک’
انگریز سامراج کے برصغیر پر قبضہ کے ایسے نازک دور میں علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ نے حق گوئی اور بے باکی کا راستہ اختیار کیا۔
آپ نے انگریز سامراج کے خلاف جہاد کا فتویٰ صادر کیا اور آزادی کی جدوجہد کو شرعی، اخلاقی اور قومی بنیاد فراہم کی۔ یہ کوئی معمولی اقدام نہ تھا۔ اس فتویٰ کا مطلب اپنی جان، مال، منصب اور آسائشوں کو خطرے میں ڈالنا تھا۔ مگر حق کے متوالے اپنے فیصلے مصلحت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصول کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریز حکومت نے آپ کو گرفتار کر لیا۔ مقدمے کے دوران آپ کو موقع دیا گیا کہ اگر آپ جہاد کے فتویٰ سے انکار کر دیں تو رہائی ممکن ہے۔ لیکن علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ نے حق کا سودا کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں اعتراف کیا کہ فتویٰ انہی کا لکھا ہوا ہے اور وہ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں۔ یہ دراصل ایک فرد کا بیان نہیں تھا بلکہ حریتِ فکر اور آزادیِ ضمیر کا وہ اعلان تھا جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا۔
نتیجتاً آپ کی جائیداد ضبط کر لی گئی اور آپ کو کالاپانی کی سزا دے کر جزائر انڈمان بھیج دیا گیا۔ وہاں قید و بند کی سختیوں، بیماریوں اور تنہائی کے باوجود آپ کا حوصلہ پست نہ ہوا۔ قلم اور کاغذ میسر نہ تھے تو آپ نے کوئلے اور دستیاب وسائل سے اپنی یادداشتیں اور مشاہدات قلم بند کیے۔ آپ کی مشہور تصنیف "الثورۃ الہندیۃ” 1857ء کی تحریکِ آزادی کے حالات کا ایک اہم تاریخی ریکارڈ سمجھی جاتی ہے۔
20 اگست 1861ء کو اس مردِ مجاہد نے انڈمان کی قید میں وفات پائی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ مرتے نہیں، تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کی زندگی اس قرآنی اصول کی عملی تفسیر بن جاتی ہے کہ حق کا راستہ مشکلات سے ضرور بھرا ہوتا ہے مگر اس کی منزل عزت و سربلندی ہے۔
آج جب دنیا مصلحتوں، مفادات اور وقتی فوائد کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کا کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوموں کی اصل طاقت ان کے وسائل نہیں بلکہ ان کے اصول ہوتے ہیں۔ جو معاشرے حق گوئی، دیانت، جراتِ اظہار اور اخلاقی استقامت کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں، وہی تاریخ میں عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔
علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ حق کے لیے کھڑا ہونا کبھی آسان نہیں ہوتا، لیکن یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو کرتا ہے۔ اقبالؒ کے الفاظ میں "حق گوئی و بے باکی” ہی مردانِ حق کا اصل آئین ہے، اور فضلِ حق خیرآبادیؒ اس آئین کے ایک روشن، تابندہ اور ناقابلِ فراموش علمبردار تھے۔
"جسم کو قید کیا جا سکتا ہے، مگر حق کی آواز کو نہیں۔”
یہی پیغام علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کی حیاتِ مبارکہ کا نچوڑ ہے اور یہی وہ درس ہے جس کی آج کے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔


