ہومتازہ ترینٹیکنالوجی سے مشترکہ جدت تک، گاڑیاں بنانے والی عالمی  کمپنیوں نے چین...

ٹیکنالوجی سے مشترکہ جدت تک، گاڑیاں بنانے والی عالمی  کمپنیوں نے چین میں اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر لی

چین کی نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) کی صنعت نے کئی برسوں کی مسلسل ترقی کے بعد رسد کا ایک مکمل مربوط نظام قائم کر لیا ہے۔ گاڑیوں کی اس صنعت نے لاگت کے لحاظ سے مسابقتی برتری اور تیز رفتار جدت کا امتزاج بھی حاصل کر لیا ہے۔

سال 2025 میں چین میں نئی توانائی والی گاڑیوں کی مقامی پیداوار اور فروخت دونوں ایک کروڑ 60 لاکھ یونٹس سے تجاوز کر گئیں جبکہ اندرونِ ملک منڈی میں نئی گاڑیوں کی فروخت میں نئی توانائی والی گاڑیوں کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ رہا۔

چین کی نئی توانائی والی گاڑیوں کی تیزی سے ترقی کرتی صنعت نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لئے نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے عالمی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی تعدادنے چین کے این ای وی اور آٹو پارٹس کے شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کر دیا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): تھامس بیکر، سینئر نائب صدر، بی ایم ڈبلیو گروپ

’’یہ بات بالکل واضح ہے کہ چین ہمارے لئے فروخت کے لحاظ سے ایک بڑی منڈی ہےلیکن خریداری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی اس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس لئے آٹو موبائل صنعت میں مستقبل کی کئی اہم پیش رفتوں کے لئے ہم چینی صلاحیت، چینی سپلائی کمپنیوں، سائنسی اداروں، انجینئرنگ اور خاص طور پر ڈیجیٹل شعبے میں تعاون پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم نے چین میں اپنے تحقیق و ترقی کے مرکز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ جیسے جیسے ہمیں چینی منڈی میں نئی خصوصیات اور نئی ٹیکنالوجیز کو بہت تیزی سے متعارف کرانے کا موقع ملتا ہےچین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کی اہمیت مزید بڑھتی جائے گی ۔ میرا خیال ہے کہ اس سے ہمیں عالمی سطح پر بھی فائدہ پہنچتا ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): اوٹا شنائیڈر، نائب صدر برائے عالمی حکومتی امور، ایوانسی

’’چین بلا شبہ ایوانسی کے لئے اہم ترین منڈیوں میں سے ایک ہے۔ چین کے بغیر عالمی لائسنسنگ کے عمل کو آسان بنانے کا ہمارا مشن مکمل نہیں ہو سکتا۔ سچ یہ ہے کہ چین ہمارے لئے صرف ایک منڈی نہیں بلکہ عالمی سطح پر کنیکٹیویٹی کے لائسنسنگ کے نظام کی تشکیل میں یہ ہمارا ایک نہایت اہم شراکت دار بھی ہے۔‘‘

بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں