ہومتازہ ترینصدر شی جن پھنگ کی چین کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور...

صدر شی جن پھنگ کی چین کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ پرخصوصی توجہ

ہزاروں برس کی تاریخ رکھنے والی چینی تہذیب ایک شاندار ثقافتی ورثے کی حامل ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے چین کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کو ریاستی حکمرانی کا ایک دائمی حصہ قرار دیا ہے۔

اکتوبر 2020 میں صوبہ گوانگ ڈونگ کے دورے کے دوران صدر شی نے چاؤژو شہر کے ثقافتی اور تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): شی جن پھنگ، چینی صدر

’’چاؤژو ایک مشہور ثقافتی شہر ہے جس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ یہ تاریخ بے حد قیمتی اور نایاب ہے۔‘‘

شی جن پھنگ نے شہر کے ثقافتی ورثے کے بہتر تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس شہر کے غیر مادی ثقافتی ورثے کے وارثوں کی تربیت کے لئے فعال کوششیں کی جائیں۔

متعدد روایتی فنون میں چاؤژو کی لکڑی کی نقش و نگاری ایک نمایاں مقام رکھتی ہے جس کی تاریخ تانگ خاندان (618 تا 907) تک جا پہنچتی ہے۔ یہ قومی غیر مادی ثقافتی ورثہ اپنی باریک اور جالی دار کندہ کاری کے باعث منفرد حیثیت رکھتا ہے۔

اس فن کے ماہر جن زی سونگ گزشتہ 50 برس سے زیادہ عرصہ سے اس ہنر سے وابستہ ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): جن زی سونگ، نمائندہ وارث، لکڑی کی نقش و نگاری، چاؤ ژو

’’ہم نوجوان نسل کو یہ احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ غیر مادی ثقافتی ورثہ ہمارے آباؤ اجداد کی قیمتی ثقافتی میراث ہے۔‘‘

جن زی سونگ کو اپنا ہنر شاگردوں تک منتقل کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے سالانہ 30 ہزار یوآن (4410 امریکی ڈالر سے زائد) کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چاؤژو کی منفرد ثقافت اس شہر کی روح بن چکی ہے۔ حکومتی تعاون کی بدولت زیادہ سے زیادہ نوجوان اپنے آبائی علاقوں میں واپس آ کر کاروبار شروع کر رہے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): شی جن پھنگ، چینی صدر

’’تہذیب کسی ملک یا قوم کی روح کی حامل ہوتی ہے۔ اسے نسل در نسل منتقل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہے اور جرات کے ساتھ جدت کو اپنائے۔‘‘

اکتوبر 2023 میں صدر شی نے چین کے ’’چینی مٹی کے برتنوں کے دارالحکومت‘‘ جِنگ دہ ژین کا دورہ کیا۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ چینی مٹی کے برتن چین کا ایک قیمتی خزانہ اور چینی ثقافت کی ایک اہم علامت ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تخلیقی ڈیزائن اور تحقیق و ترقی میں جدت کو فروغ دینے کے لئے مختلف شعبوں کی صلاحیتوں اور مہارتوں کو یکجا کیا جائے تاکہ سیرامکس کی صنعت کو مزید ترقی دی جا سکے۔

آج روایتی فنون تیزی کے ساتھ جدید عناصر سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): سُون لی شِن، نمائندہ وارث، نیلے اور سفید چینی مٹی کے برتن بنانے کی روایتی تکنیک

’’میں اپنی تخلیقات میں جدید جمالیاتی رجحانات شامل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں اپنے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اپنے خیالات کو چینی مٹی کے برتنوں پر نقش کریں اور نئے دور کی روح اور تصورات کے اظہار کے لئے روایتی تکنیکیں استعمال کریں۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): ژان شِنگ ہوا، ڈپٹی ڈائریکٹر، جِنگ دہ ژین بیورو برائے ثقافت و سیاحت

’’ہم تخلیقی ڈیزائن اور جدید ثقافتی رجحانات کے امتزاج کو فروغ دیتے ہیں، سیرامک ڈیزائنر کھلونوں جیسی نئی مصنوعات تیار کرتے ہیں جبکہ تھری ڈی پرنٹنگ اور مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے تحقیق و ترقی کو تقویت دے رہے ہیں تاکہ جدید سیرامکس کو اعلیٰ درجے کے صنعتی استعمالات اور بہتر کارکردگی کی سمت لے جایا جا سکے۔‘‘

جِنگ دہ ژین کی سیرامکس صنعت میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کام کرتے ہیں جن میں چین کے دیگر علاقوں اور بیرون ملک سے آنے والے ساٹھ ہزار سے زائد افراد شامل ہیں۔ فنون لطیفہ کے معروف چینی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے جِنگ دہ ژین نے تحقیق و ترقی کی ٹیمیں بنائی ہیں اور چار ہزار سے زائد اصل ثقافتی مصنوعات متعارف کرائی ہیں جن کے آزادانہ کاپی رائٹس موجود ہیں۔

غیر مادی ثقافتی ورثہ دیہی احیا کے لئے نئی تحریک تخلیق دے رہا ہے۔

مارچ 2025 میں صدر شی نے صوبہ گوئی ژو کے ژاؤشِنگ ڈونگ گاؤں کا دورہ کیا۔ یہ گاؤں اپنی محفوظ لکڑی کی بلند بنیادوں پر تعمیر کئے گئے اونچے گھروں، ڈرم ٹاورز اور ڈونگ نسلی برادری کی ثقافت کے لئے مشہور ہے۔ صدر شی نے مقامی باشندوں کے ساتھ ایک ڈرم ٹاور میں ایک آتش دان کے گرد بیٹھ کر دیہی احیاء کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ ڈرم ٹاور ڈونگ قومیت کی ایک منفرد عمارت ہے جسے اجتماعی سرگرمیوں کے لئے مرکزی مقام کے طور پر استعمال کیا جاتاہے۔

ساؤنڈ بائٹ 6 (چینی): شی جن پھنگ، چینی صدر

’’جس انداز میں آپ نے بات کی اور آپ کے چہروں کے جو تاثرات ہیں اُن سے بھی یہ واضح ہے کہ یہ گاؤں ترقی کر رہا ہے۔ سیاحت اب ایک بڑی صنعت بن چکی ہے اور دیہی سیاحت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔

نسلی اقلیتوں کے علاقوں میں ہمیں منفرد ثقافتوں کا تحفظ کرنا ہوگا، انہیں سیاحت کے ساتھ جوڑنا ہوگا اور انہیں مزید درخشاں کرنا ہوگا۔

میری دعا ہے کہ آپ کی زندگیاں مزید خوشحال ہو۔‘‘

نیل رنگائی، کشیدہ کاری اور ڈونگ لوک گیت جیسے غیر مادی ثقافتی ورثے اس گاؤں کی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ مقامی حکام اور ہنرمندوں نے ان ثقافتی ورثوں کے تحفظ کی کوششیں تیز کر دی ہیں اور ثقافتی سیاحت، صحت افزا سیاحتی مراکز، نسلی دستکاریوں اور مقامی کھانوں جیسی صنعتوں کو فروغ دے کر گاؤں کی ترقی کے نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 7 (چینی): لو یونگ می، نمائندہ وارث، ڈونگ نیل رنگائی تکنیک

’’مطالعاتی دوروں کے ذریعے سیاح ہمارے غیر مادی ثقافتی ورثے اور روایتی دستکاریوں کو گہرائی سے سمجھنے کے لئے خود عملی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔‘‘

جنوری 2026 تک ژاؤشِنگ ڈونگ گاؤں میں روایتی دستکاری کے 60 سے زائد کاروباری ادارے اور 400 سے زیادہ ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور ریستوران قائم ہو چکے ہیں جن کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ افراد کو روزگار ملا ہے۔

اس وقت چین کے 45 غیر مادی ثقافتی ورثے کے عناصر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی مختلف فہرستوں میں شامل ہیں جن کے ساتھ وہ مجموعی اندراجات کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 8 (چینی): شی جن پھنگ، چینی صدر

’’چین ایک عظیم ملک ہے جس کی تہذیب بھی عظیم ہے۔

یہ سب چین کی طویل تاریخ اور شاندار تہذیب کا زندہ ثبوت ہیں۔ یہی وہ بنیاد ہے جس سے ہمیں اعتماد اور طاقت ملتی ہے۔‘‘

گوانگ ژو/ نان چانگ / گوئی یانگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں