حالیہ برسوں کے دوران بینکاک میں فضائی آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ گاڑیوں کا دھواں، صنعتی سرگرمیاں اور حیاتیاتی مادوں کے جلنے سے پیدا ہونے والی آلودگی نے مل کر ایک پیچیدہ صورت اختیار کر لی ہے۔ آلودگی کے درست ذرائع کی نشاندہی طویل عرصے سے ایک مشکل کام رہی ہے۔
اب چین اور تھائی لینڈ کے تعاون سے نصب کئے گئے نئے مانیٹرنگ آلات اس صورتحال میں تبدیلی لا رہے ہیں۔
ہوا کے نمونوں کوجمع کرنے اور ریئل ٹائم ڈیٹا کو ایک ذہین تجزیاتی پلیٹ فارم تک منتقل کرنے کے بعد یہ نظام پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): سُرات بوالیرت، ایسوسی ایٹ پروفیسر، فیکلٹی آف انوائرنمنٹ، کاسٹسارٹ یونیورسٹی
’’پی ایم دو اعشاریہ پانچ کہاں سے آتا ہے؟ پہلے اس کا نتیجہ حاصل کرنے میں کم از کم چھ ماہ کا طویل وقت درکار ہوتا تھا۔ لیکن اب نئی ٹیکنالوجی کی بدولت یہ جواب پہلے سے زیادہ تیزی اور درستگی کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بینکاک کے لوگوں کے لئے فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے میں بہت مددگار ثابت ہوگی۔‘‘
لائیڈر ٹیکنالوجی سے لیس یہ آلات فضائی آلودگی کی تقسیم کو ٹریک کرنے اور آلودگی میں مختلف ذرائع کے حصے کا تعین کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): وانگ بینلا، ٹیکنیکل منیجر، لی ہے ٹیکنالوجی (ہونان) کمپنی، چین
’’ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ آلودگی کیسے پیدا ہوتی ہے، آلودگی پھیلانے میں کون سے عناصر شامل ہیں اور یہ کہاں سے آتے ہیں۔ ہم تھائی لینڈ سے حاصل کئے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے حکومت کو ہدف کے تعین پر مبنی درست پالیسی اقدامات کے لئے سائنسی معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): سُرات بوالیرت، ایسوسی ایٹ پروفیسر، فیکلٹی آف انوائرنمنٹ، کاسٹسارٹ یونیورسٹی
’’چین نے جو تجربہ کیا اس میں تھائی لینڈ کے عوام کے لئے سیکھنے کا ایک اہم موقع ہے۔ ہم چینی تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جس سے ہمیں ابتدائی سطح سے آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔‘‘
شمالی اور شمال مشرقی تھائی لینڈ میں بھی فضائی آلودگی ایک سنگین اور تشویشناک مسئلہ بن چکی ہے۔
سُرات کا ماننا ہے کہ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے حوالے سے چین کا تجربہ تھائی لینڈ کو قیمتی رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔
بینکاک سے شنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


