بارسلونا کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں طلبہ روایتی چینی کھانوں کی ورکشاپس کے ذریعے مینڈارین زبان بھی سیکھ رہے ہیں۔ اس طرح کھانا پکانے کی ورکشاپس چینی زبان سیکھنے کا عملی ذریعہ بن گئی ہیں۔
ہر ماہ مختلف عمر کے زبان سیکھنے والے افراد بارسلونا کے ڈمپلنگ شی ریسٹورنٹ میں آتے ہیں جہاں وہ روایتی چینی ڈمپلنگز تیار کرنا سیکھتے ہیں اور اس ساری سرگرمی کے دوران وہ چینی زبان ہی میں بات چیت کرتے ہیں۔
بارسلونا کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کی تدریسی رابطہ کار شو یِنگ فینگ نے کہا کہ یہ سرگرمی اس سوچ کے تحت شروع کی گئی تھی کہ طلبہ کو کمرہ جماعت اور نصابی کتابوں جیسے روایتی تدریسی ماحول سے ہٹ کر سیکھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (ہسپانوی): شو یِنگ فینگ، تدریسی رابطہ کار، بارسلونا کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ
’’جب میں ابتدائی درجے کے طلبہ کو پڑھاتی ہوں اور ان سے سیکھنے کے دلچسپ موضوعات پر بات کرتی ہوں تو تقریباً دو تہائی طلبہ خوراک اور کھانوں کو اپنی سب سے بڑی دلچسپی قرار دیتے ہیں جو انہیں چین کے قریب لانے میں مدد دیتی ہے۔‘‘
ہر ورکشاپ کے آغاز پر شرکاء کو چینی زبان میں ڈمپلنگز کی تاریخ اور اس سے وابستہ روایات سے متعارف کرایا جاتا ہے۔
کھانا پکانے کی ورکشاپ انسٹی ٹیوٹ کی اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے عملی انداز میں سیکھنے کے مواقع بڑھانا ہے۔ اس وقت اساتذہ روایتی چینی مصوری، تائی چی اور ماجونگ جیسے کلاسیکی کھیلوں پر مبنی ورکشاپس کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ڈمپلنگ شی کی نمائندہ ژو تیان تیان نے ریسٹورنٹ کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سرگرمی زبان کو روزمرہ ثقافتی تجربات کے ساتھ جوڑنے میں طلبہ کو مدد فراہم کرے گی۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (ہسپانوی): ژو تیان تیان، نمائندہ، ڈمپلنگ شی ریسٹورنٹ چین
’’ورکشاپ کے آغاز میں ہم ڈمپلنگز کا تصور اور ان کی تاریخ سے شرکاء کو متعارف کراتے ہیں لیکن یہ سب کچھ چینی زبان میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہم بچوں سے چینی زبان میں سوالات بھی پوچھتے ہیں۔ جو بچے درست جواب دیتے ہیں انہیں انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔‘‘
بہت سے طلبہ کے لئے یہ تجربہ چینی ثقافت سے زیادہ قریبی تعلق قائم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے طالبعلم ایڈوارڈ ٹورینٹ نے کہا کہ کھانوں کے بارے میں سیکھنے سے انہیں چینی ثقافت کے سماجی پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (کیٹلن): ایڈوارڈ ٹورینٹ، طالبعلم، بارسلونا کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ
’’جب آپ کوئی زبان سیکھنا چاہتے ہیں جیسے چینی زبان تو اس کے ساتھ ثقافت کو سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ خاص طور پر خوراک کو۔ یہ سرگرمی چینی کھانوں کو قریب لاتی ہے اور ان کی ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ یہ کس طرح لوگوں کو ایک خاندان کی طرح جوڑنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تجربہ صرف زبان سیکھنے تک محدود نہیں رہتا۔‘‘
ایک اور طالبہ صوفیہ پونزیٹا نے کہا کہ وہ بچپن ہی سے چینی زبان سیکھ رہی ہیں اور چین کی تاریخ اور روایات سے طویل عرصے سے متاثر رہی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (کیٹلن): صوفیہ پونزیٹا، طالبہ، بارسلونا کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ
"میں چھ برس کی عمر سے چینی زبان سیکھ رہی ہوں اور مجھے ہمیشہ چینی ثقافت میں بہت دلچسپی رہی ہے۔ سچ یہ ہے کہ مجھے ہمیشہ مختلف ثقافتوں کے بارے میں جاننا پسند ہے۔ مجھے چینی ثقافت سب سے زیادہ اس لئے دلچسپ لگتی ہے کیونکہ اس کی تاریخ دیگر ثقافتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پرانی اور وسیع ہے۔”
بارسلونا،اسپین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


