ویتنام کی وزارت زراعت و ماحولیات کے مطابق باک ننھ ملک کا سب سے بڑا لیچی پیدا کرنے والا صوبہ ہے جہاں لیچی کے باغات تقریباً 29 ہزار 800 ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔
مئی کے آخر میں لیچی سے لدے پہلے کنٹینر ٹرک باک ننھ سے چین روانہ ہوئے جس کے ساتھ ہی رواں برس کے برآمدی سیزن کا آغاز ہو گیا۔
اگرچہ ناموافق موسمی حالات کے باعث پیداوار گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً آدھی رہ گئی ہے تاہم بہتر قیمتوں نے نقصانات کا ازالہ کرنے میں کافی مدد فراہم کی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (ویتنامی): تران وان بون، لیچی کاشتکار، صوبہ باک ننھ، ویتنام
"رواں برس برس چینی تاجروں نے میرے باغ کی لیچی خریدنے کے لئے مجھے 50 ہزار سے 70 ہزار ویتنامی ڈونگ (تقریباً 1.9 سے 2.7 امریکی ڈالر) فی کلوگرام کی پیشکش کی ہے۔ چین کو برآمد کی جانے والی لیچی کے لئے ضروری ہے کہ لیچی پھل کیڑوں کے نقصان سے محفوظ ہو اور اس کی ظاہری شکل بھی معیاری اور پرکشش ہو۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (ویتنامی): تران وان بنھ، لیچی کاشتکار، صوبہ باک ننھ، ویتنام
"اب جبکہ چینی تاجر بڑی مقدار میں لیچی خرید رہے ہیں ہمیں اپنے پھل کی منڈی کے بارے میں فکر نہیں رہی۔ اب ہم لیچی کی کاشت اور دیکھ بھال پر اپنی مکمل توجہ دے سکتے ہیں تاکہ یہ برآمدی معیار پر پورا اتر سکے۔”
چین گزشتہ کئی برسوں سے باک ننھ کی لیچی کے لئے بدستور سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔
باک ننھ کے محکمہ زراعت و ماحولیات کے مطابق اس وقت صوبے میں لیچی کی کاشت کے 243 رجسٹرڈ پیداواری علاقے موجود ہیں ۔ یہ علاقے17 ہزار 450 ہیکٹر سے زائد رقبے پر محیط ہیں اور مختلف بین الاقوامی منڈیوں کو برآمدات کے لئے منظور شدہ ہیں۔
ان میں سے 16 ہزار 190 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر محیط 120 سے زائد پیداواری علاقوں کو رواں برس چینی منڈی کے لئے برآمدات کی اجازت حاصل ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (ویتنامی): فام وان تھِنھ، وائس چیئرمین، باک ننھ صوبائی عوامی کمیٹی
"رواں برس لیچی کی کاشت کا رقبہ 21 ہزار سے 22 ہزار ہیکٹر کے درمیان ہے جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مجموعی طور پر مستحکم رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ رواں برس قیمتیں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہوں گی۔ مجھے یقین ہے کہ چین کو لیچی کی برآمدات رواں برس تقریباً 40 ہزار سے 50 ہزار ٹن تک پہنچ جائیں گی۔”
چین گزشتہ دو دہائیوں سے ویتنام کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے۔ سال 2025 میں ویتنام کی پھلوں اور سبزیوں کی چین کو برآمدات 5 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی تھیں۔ یہ ملک کی مجموعی پھل اور سبزی برآمدات کا 64 فیصد سے زائد بنتی ہیں۔
ہنوئی سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


