ہومتازہ ترینتیانجن، عالمی انٹیلی جنس ایکسپو 2026 میں اے آئی ٹیکنالوجی کی جدید...

تیانجن، عالمی انٹیلی جنس ایکسپو 2026 میں اے آئی ٹیکنالوجی کی جدید ترین طبی ایجادات کی نمائش

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی/چینی): لیو رُون ژی، نمائندہ شِنہوا / انٹرویو دینے والےشرکاء

سوال:

”مصنوعی ذہانت نے آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی لائی ہے؟“

جوابات:

”یہ چونکہ آپ کا وقت بچاتی ہے اس لئے آپ کے لئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

یہ سہولت اور کارکردگی میں اضافہ کرتی ہے۔

اس نے میری بہت مدد کی اور مجھے خوش رکھاہے۔“

چین کے شمالی شہر تیانجن میں منعقدہ عالمی انٹیلی جنس ایکسپو 2026 اتوار کے روز اختتام پذیر ہوئی۔

اس چار روزہ ایکسپو میں 700 سے زائد نمائش کنندگان نے شرکت کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں جدید ترین ٹیکنالوجیز، مصنوعات اور ان کے عملی استعمال کے مختلف نمونے پیش کئے۔

اسٹینڈ اپ 1 (انگریزی): لیو رُون ژی، نمائندہ شِنہوا

”عالمی انٹیلی جنس ایکسپو 2026 میں ذہین ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کی متعدد مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔ جس ذہین طرزِ زندگی کا ہم کبھی تصور کیا کرتے تھے وہ اب ہماری پہنچ میں آ چکا ہے۔ چین کے بہت سے کمیونٹی ہسپتالوں میں ایسا اے آئی نظام استعمال کیا جا رہا ہے جو بچوں کے امراض کی تشخیص کے لئے ماہرِ اطفال کی معاونت کرتا ہے۔“

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): ہان بِنگ شیاؤ، میڈیکل اے آئی ماہر، چائنہ یونی کام

”یہ پراڈکٹ بنیادی سطح کے طبی اداروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ یہ بچوں کی بیماریوں کی تشخیص کے لئے مصنوعی ذہانت کی مدد سے انتہائی درست خدمات فراہم کرتی ہے۔ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان مشاورت کے دوران اے آئی پر مبنی بڑا ماڈل سوال و جواب کے پورے عمل کو ریکارڈ کرتا ہے۔ یہ مریض کے جسمانی معائنے اور لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹس کو اسکین کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ ان تمام معلومات کو یکجا کرنے کے بعد یہ نظام مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ابتدائی تشخیصی رپورٹ تیار کرتا ہے۔

اب تک یہ نظام چین میں بیجنگ اور ہیبے کے 150 سے زائد ضلعی سطح کے طبی اداروں میں متعارف کرایا جا چکا ہے۔ اس سے ان علاقوں میں بچوں کی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کی مجموعی صلاحیت مؤثر طور پر بہتر ہوئی ہے۔“

اسٹینڈ اپ 2 (انگریزی): لیو رُون ژی، نمائندہ شِنہوا

”بولنے میں دشواری کا سامنا کرنے والے بزرگ افراد سکرین کو استعمال کر سکتے ہیں اور صرف آنکھوں کی حرکت کے ذریعے دوسروں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔“

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): تیان شی شِنگ، پروڈکٹ منیجر، تیانجن ایڈیلی میڈیکل اینڈ ایلڈرلی کیئر سروس کمپنی لمیٹڈ

”یہ نظام انفراریڈ شعاعوں کی ٹیکنالوجی کے ذریعے آنکھوں کی حرکات کو ٹریک کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور بگ ڈیٹا ماڈلز کی مدد سے یہ سسٹم آنکھوں کی حرکت کی درستگی کو بہتر بناتا ہے تاکہ صرف نگاہ کے ذریعے سکرین کو کنٹرول کرنا ممکن بنایا جا سکے۔

آنکھوں کی حرکات کو ٹریک کرنے والی یہ ٹیکنالوجی اُن مکمل طور پر معذور بزرگوں کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے جو بولنے اور جسمانی حرکت میں دقت محسوس کرتے ہیں۔

تیانجن میں بزرگوں کی دیکھ بھال کے درجنوں جامع مراکز نےاس اسمارٹ ڈیوائس کو اپنا لیا ہے۔ یہ بزرگ افراد کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اور ان کی فلاح و بہبود میں اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔“

تیانجن، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں