غازی آباد (لارڈ میڈیا): بھارت کی ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں غازی آباد میں سرکاری زمین پر قبضے کے الزام میں ایک مدرسے کو مسمار اور دو دیگر مدارس کو بند کر دیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ادارہ 2000 سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور اس کے تمام قانونی دستاویزات مکمل اور درست ہیں۔
ہندو رکشا دل کے صدر پنکی چوہدری نے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے دارالعلوم دیوبند کے خلاف بھی بلڈوزر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب دہرادون کی ایک مسجد پر عائد پابندی کے بعد بعض انتہاپسند عناصر نے مسجد کے باہر ہندو مذہبی رسومات کا آغاز کیا جس پر مقامی سطح پر بحث اور ردعمل سامنے آیا ہے۔


