چین کے بارے میں آگاہی اور فہم کو فروغ دینے کے لئے کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم چائنہ انسٹی ٹیوٹ آف امریکہ نے اپنی 100ویں سالگرہ منائی۔ اس موقع پر منعقد ہونے والی تقریب میں مختلف اداروں کے نمائندوں اور سابق امریکی صدور کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے چین اور امریکہ کے درمیان روابط اور عوامی سطح کے تبادلوں کی حمایت کا اظہار کیا۔
سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کے پوتے کرسٹوفر نکسن کاکس نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان اختلافات کا سامنا کرتے ہوئے اُن کے دادا نے ایک بہت مشکل مگر زیادہ پُرخلوص راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے ایک ایسا پل تعمیر کرنے کا وعدہ کیا جس پر کھڑے ہو کر دونوں ممالک بات چیت کر سکیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): کرسٹوفر نکسن کاکس، سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کے پوتے
”پل تعمیر کرنے کا عمل کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ کام پہلے سے بھی زیادہ مشکل محسوس ہوتا ہے۔ لیکن میں اپنے دادا کی مثال سے اور اور آپ سب کی کوششوں سے متاثر ہو کر اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہوں۔ کیونکہ سال 1972 نے ہمیں یہی سبق دیا کہ کئی دہائیوں کی خاموشی کے بعد اور گہری خلیج کے باوجود خیرسگالی کے جذبے سے سرشار لوگ مکالمے کا راستہ نکال سکتے ہیں۔“
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): نیل بش، چیئرمین، جارج ایچ ڈبلیو بش فاؤنڈیشن برائے امریکہ چین تعلقات
”میرے والد سابق صدر جارج ایچ ڈبلیو بش اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ ممالک کے درمیان پائیدار تعلقات افراد کے درمیان تعلق، کھلے پن اور مسلسل رابطے کے ذریعے استوار ہوتے ہیں۔ چائنہ انسٹی ٹیوٹ طویل عرصے سے انہی اقدار کے فروغ کے لئے کام کر رہا ہے۔“
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): ڈیوڈ فائرسٹین، صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، جارج ایچ ڈبلیو بش فاؤنڈیشن برائے امریکہ چین تعلقات
”میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے چائنہ انسٹی ٹیوٹ کے بورڈ، قیادت، عملے اور اس کے شاندار کام کی ذاتی طور پر بے حد قدر ہے۔ یہ ادارہ امریکہ میں چین کے بارے میں آگاہی کو فروغ دے رہا ہے جس کی آج اشد ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور چین کے تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے میں بھی اس کا کردار ہے۔“
چین اور امریکہ کے درمیان عوامی سطح کے تبادلوں میں دونوں جانب کی پختہ عزم کے باعث حوصلہ افزا پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔
چین کے پانچ سالہ پروگرام کے تحت تبادلہ اور تعلیمی پروگراموں کے ذریعے 50 ہزار سے زائد امریکی نوجوان چین کا دورہ کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ ہدف مقررہ وقت سے اڑھائی برس پہلے ہی حاصل کر لیا گیا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): ڈیوڈ فائرسٹین، صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، جارج ایچ ڈبلیو بش فاؤنڈیشن برائے امریکہ چین تعلقات
”میرے خیال میں یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین اپنی ذمہ داری نبھانے اور دونوں ممالک کے نوجوانوں کے درمیان مکالمے کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لئے بھرپور انداز میں پُرعزم ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک نہایت مثبت پیش رفت ہے۔ میں اس اقدام پر چین کی حکومت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ تاہم میرا خیال ہے کہ امریکہ کو بھی اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔“
ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): جین بیریس، نائب صدر، قومی کمیٹی برائے امریکہ چین تعلقات
”یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ چین نے یہ ہدف صرف اڑھائی برس میں یعنی مقررہ وقت کے نصف عرصے میں ہی مکمل کر لیا۔ یہ واقعی ایک بڑی کامیابی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس بنیاد کو مزید مضبوط کریں اور ان تبادلوں کو زیادہ طویل اور گہرا بنائیں تاکہ دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے کو بہتر اور گہرائی سے سمجھ سکیں۔“
نیویارک، امریکہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندے کی رپورٹ


