بیجنگ (شِنہوا) چین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت بڑے ممالک کی خصوصی جاگیر نہیں ہے اور نہ ہی اسے ٹکراؤ کے میدان میں تبدیل ہونا چاہیے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یہ بات جمعہ کے روز معمول کی پریس بریفنگ کے دوران مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔
ماؤ کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت پیداواری عمل اور طرز زندگی کو گہرے طریقے سے بدل رہی ہے اور یہ ایک ایسا نیا چیلنج ہے جس کا انسانیت کو مل کر سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔
چین اس سال جولائی میں شنگھائی میں ورلڈ اے آئی کانفرنس (ڈبلیو اے آئی سی) 2026 اور عالمی اے آئی گورننس پر اعلیٰ سطح کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
ماؤ نے کہا کہ "ہم اس کانفرنس کو تمام فریقین کے ساتھ گہرے تبادلہ خیال اور بات چیت کرنے، عالمی اے آئی نظم و نسق کو مضبوط بنانے اور مصنوعی ذہانت کو پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔”


