مصر اور چین کے درمیان “قدیم دارالحکومتوں (قاہرہ اور ہانگ ژو) کا تہذیبی مکالمہ ” کے عنوان سےثقافتی تبادلے کا ایک فورم پیر کے روز قاہرہ میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے آپس کے گہرے ثقافتی روابط کو اجاگر کیا گیا۔
”تہذیبوں کی ابتدا سے مستقبل کے تصورات تک“ کے موضوع کے تحت منعقدہ اس تقریب میں دونوں ممالک کے سرکاری حکام، ثقافتی ورثے کے ماہرین، جامعات اور تھنک ٹینکس کے نمائندوں نے شرکت کی۔
قاہرہ میں واقع مصری تہذیب کے قومی عجائب گھر (این ایم ای سی) میں منعقد ہونے والی اس نشست میں شرکا نے تہذیبوں کی ابتدا، تاریخی تجزیے، عجائب گھروں کے کردار اور علم کے فروغ جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔
مصر میں چینی سفارتخانے کے سینئر سفارتی عہدیدار اور ڈپٹی چیف آف مشن ژانگ یا چیانگ نے کہا کہ یہ تقریب دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی تفہیم اور روایتی دوستی کو مزید مضبوط بنائے گی۔ اس سےنئے دور میں چین مصر مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تعمیر کے لئے عوامی تعاون کو فروغ ملے گا۔ خصوصاً ایسے وقت میں جبکہ سال 2026 میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اور مصر دونوں قدیم تہذیبیں ہیں جو اپنی طویل تاریخ اور شاندار ثقافتی ورثہ رکھتی ہیں۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے سیکھا ہے اور ہزاروں برسوں سے مشترکہ ترقی کرتے آئے ہیں۔
مصری تہذیب کے قومی عجائب گھر (این ایم ای سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر التائب عباس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی ورثہ صرف ماضی کا ریکارڈ نہیں ہوتا بلکہ مستقبل کی تعمیر کے لئے ایک اہم طاقت بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہذیبوں کے درمیان مکالمہ عالمی امن اور پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم راستہ ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ مصر اور چین کے درمیان ثقافتی تعاون ثقافتی ورثے کے تحفظ، اسے اگلی نسلوں تک منتقل کرنے اور فروغ کے حوالے سے عالمی تعاون کی ایک مثبت مثال ہے۔
تقریب کے دوران چائنہ کمیونیکیشن یونیورسٹی (سی یو سی) کے انسٹی ٹیوٹ آف کلچرل ڈویلپمنٹ اینڈ کمیونیکیشن کے ڈین شیونگ چینگ یو نے کہا کہ قدیم دارالحکومتوں کے درمیان مکالمہ تہذیبوں کے ایک دوسرے سےسیکھنے کی ایک واضح مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصر اور چین کو چاہئے کہ مل کر ترقی کا ایسا راستہ تلاش کریں جس میں تاریخ اور جدیدیت ساتھ ساتھ موجود رہیں اور مل کر ترقی کریں تاکہ قدیم دارالحکومت نئے دور میں نئی توانائی حاصل کر سکیں۔
قاہرہ میں قائم مصر چین فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے رکن عبدالفتاح عزالدین نے کہا کہ وہ چین کے مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر ہانگ ژو کئی بار گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہانگ ژو اور قاہرہ دونوں قدیم شہر ہونے کے ناطے گہری تاریخی وسعت اور قدیم تہذیبی بنیادیں رکھتے ہیں۔
یہ تقریب چائنہ کمیونیکیشن یونیورسٹی (سی یو سی) کے انسٹی ٹیوٹ آف کلچرل ڈویلپمنٹ اینڈ کمیونیکیشن اور نیشنل میوزیم آف ایجپشن سیولائزیشن (این ایم ای سی) کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔
تقریب کے موقع پر این ایم ای سی میں لیانگ ژو ثقافتی ورثے کے تحفظ اور استعمال سے متعلق ایک فوٹو اور پینل نمائش کا افتتاح بھی کیا گیا۔
لیانگ ژو ثقافت (تقریباً 3300 قبل از مسیح سے 2300 قبل از مسیح کے درمیان) ایک انتہائی ترقی یافتہ نوولتھک تہذیب تھی جو آج کے چین کے مشرقی صوبے ژےجیانگ میں موجود تھی۔ اسے سال 2019 میں یونیسکو کےعالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ یہ چینی تہذیب کے کم از کم 5 ہزار سال پرانے وجود کے مادی شواہد فراہم کرتی ہے۔
قاہرہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


