ہومتازہ تریناٹلی کی پیسا لیبارٹری روبوٹکس ٹیکنالوجی میں چین کے ساتھ شراکت کی...

اٹلی کی پیسا لیبارٹری روبوٹکس ٹیکنالوجی میں چین کے ساتھ شراکت کی خواہاں

اٹلی کے شہر پیسا میں واقع سانت آنا سکول آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز کی ہیومن روبوٹ انٹریکشن لیبارٹری بحالیِ صحت کے لئے روبوٹس، پہننے کے قابل ایکسو اسکیلیٹن، لمس کے احساس پر مبنی فیڈ بیک اور دُور سے کنٹرول کی جانے والی ٹیکنالوجیز تیار کرتی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): انتونیو فریسولی، پروفیسر، سانت آنا سکول آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز

”روبوٹس انسانوں کو صحت کی بحالی اور مہارتوں میں بہتری لانے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر حالیہ عرصے میں ہم نے ایکسو اسکیلیٹن کے شعبے میں یہ دیکھا ہے کہ جسم کے نچلے حصے کے لئے تیار کردہ ایکسو اسکیلیٹن لوگوں کو سہارا فراہم کر سکتا ہے۔ صنعتی ماحول میں اشتراکی روبوٹکس بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے جہاں روبوٹس کاموں کی انجام دہی میں انسانوں کی عملی مدد کرتے ہیں یا ان کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ آج کل انسان نما روبوٹس بھی یہی کردار ادا کر رہے ہیں۔“

اس لیبارٹری نے قبل ازیں چین کے ژونگ گوان چھون فورم میں بحالیِ صحت کے لئے تیار کردہ روبوٹک آلات کی نمائش کی تھی تاکہ تبادلۂ خیال کے ذریعے ان ٹیکنالوجیز کا عملی استعمال بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

فریسولی نے بحالیِ صحت کے روبوٹس، ایکسو اسکیلیٹن اور مجسم ذہانت پر مبنی روبوٹکس کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی امید ظاہر کی۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): انتونیو فریسولی، پروفیسر، سانت آنا سکول آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز

”مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبے کے حوالے سے دیکھا جائے تو بلاشبہ چین ٹیکنالوجی کی دنیا میں صفِ اول کی بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ چین کا ماحول انتہائی متحرک اور نہایت فعال ہے۔ ہمارے لئے چین کے ساتھ تعاون ایک موقع ہے جس کے ذریعے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے اور مصنوعات کو عملی سطح پر کس طرح مؤثر انداز میں استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔“

پیسا، اٹلی سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں