الماتے (شِنہوا) قازقستان کے الماتے ریجن کے گورنر مارات سلطان گازیف نے کہا ہے کہ چین سے متصل اور ٹرانزٹ راہداریوں کی سہولت رکھنے والے خطے کی حیثیت سے الماتے ریجن دوطرفہ تعاون میں اپنے کردار کو بہت اہمیت دیتا ہے اور مقامی تعاون کے ایک مرکز کے قیام کو فعال طور پر فروغ دے رہا ہے۔
سلطان گازیف نے قازقستان کے جنوب مشرق میں واقع الماتے ریجن کے انتظامی مرکز کونائیف میں شِنہوا کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ قازقستان کے چوتھے سب سے زیادہ آبادی والے ریجن الماتے کی سرحد چین کے ساتھ ملتی ہے، جس کے باعث اسے قازقستان اور چین کے درمیان تعاون میں ایک منفرد اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان مملکت کی رہنمائی میں قازقستان اور چین کے تعلقات تعاون کے ایک نئے "30 سالہ سنہری دور” میں داخل ہو چکے ہیں، جس سے الماتے ریجن کو چین کے ساتھ تعاون کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرنے کے لئے سازگار ماحول میسر آیا ہے۔
سلطان گازیف کے مطابق چین کے ساتھ اقتصادی تعاون اور عوامی سطح پر روابط دونوں میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ حالیہ برسوں میں الماتے ریجن اور چین کے درمیان تجارتی حجم مسلسل ایک ارب امریکی ڈالر سے زیادہ رہا ہے جو 2025 میں 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ رواں سال اس میں مزید اضافے کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت 40 سے زائد سرمایہ کاری منصوبوں پر بات چیت جاری ہے جن سے دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی توانائی ملنے کی توقع ہے۔
سلطان گازیف نے کہا کہ الماتے ریجن نے چین کے صوبائی سطح کے آٹھ علاقوں کے ساتھ تعاون اور دوستی کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں جن کے ذریعے پیداوار، زراعت اور نقل وحمل کے شعبوں میں مستحکم تعاون کا نظام قائم کیا گیا ہے۔


