ہومسماجی معاملاتپیشہ ور ماتم دار: قدیم روایت آج بھی زندہ

پیشہ ور ماتم دار: قدیم روایت آج بھی زندہ

لاہور (لارڈ میڈیا): دنیا کے مختلف خطوں میں پیشہ ور ماتم داروں کی روایت صدیوں پرانی ہے، جہاں لوگ جنازوں میں غم کا اظہار کرنے کے لیے معاوضہ لیتے ہیں۔ ان کا کردار سوگوار خاندانوں کے جذباتی بوجھ کو بانٹنے میں اہم ہوتا ہے۔

یہ روایت قدیم مصر، روم، چین اور مشرقِ وسطیٰ کی تہذیبوں میں بھی موجود تھی، جہاں مخصوص قواعد کے تحت خواتین کو ماتم دار بننے کی اجازت تھی۔

کینیا میں یہ روایت آج بھی برقرار ہے، جہاں بلند آواز میں رونا اور اجتماعی ماتم بری روحوں کو دور رکھنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

چین میں پیشہ ور ماتم داروں کو سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جہاں بعض افراد جنازوں میں ڈرامائی پرفارمنس بھی دیتے ہیں۔

بھارت میں راجستھان کے علاقوں میں رودالی خواتین اس روایت کی نمائندگی کرتی ہیں، اگرچہ نئی نسل نے اس پیشے کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے۔

برطانیہ میں وکٹورین دور سے کرائے کی ماتم داری کی روایت جاری ہے، جہاں آج بھی کمپنیاں کرائے پر ماتمی خدمات فراہم کرتی ہیں۔

امریکا میں یہ سروس مخصوص ایجنسیوں اور فری لانسرز کے ذریعے دستیاب ہے، جو اکیلے پن کا شکار خاندانوں کی مدد کرتی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں