ہومتازہ ترینشنگھائی میں 240 سال پرانا روایتی چینی طب عالمی سیاحت کا نیا...

شنگھائی میں 240 سال پرانا روایتی چینی طب عالمی سیاحت کا نیا تجربہ بن رہا ہے

شنگھائی کے مشہور یو یوآن گارڈن میں واقع 240 سال پرانا روایتی چینی طب کا برانڈ ٹونگ ہان چون تانگ اپنی ثقافتی وراثت کو سیاحتی تجربے میں بدل رہا ہے۔

توئینا مساج اور جڑی بوٹیوں کی ادویات کے تعارف سے لے کر خوشبودار تھیلیاں بنانے تک غیر ملکی سیاح اس جگہ آ کر ان تمام سرگرمیوں کا تجربہ کر رہے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): جو آہ ہیونگ، جنوبی کورین سیاح

"انہوں نے بالکل اسی جگہ دباؤ دیا جہاں مجھے تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔ یہ واقعی بہت متاثر کن ہے۔ کوریا میں اس طرح کے مساج کی قیمت تقریباً 700 سے 800 یوآن تک (تقریباً 103 سے 117 امریکی ڈالر) ہوتی ہے لیکن یہاں یہ صرف تقریباً 150 یوآن (تقریباً 22 امریکی ڈالر) میں مل جاتا ہے۔ یہ واقعی قابلِ قدر ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 2 (کوریائی): کم گون ہو، جنوبی کورین سیاح

"یہ مختصر چھٹیوں پر تفریح کے لئے ایک بہترین مقام ہے۔ قریب واقع ہونے، ملتی جلتی ثقافت اور کھانوں کی وجہ سے ہمیں یہاں خود کو اپنانا آسان لگتا ہے۔ اسی لئے ہم بار بار یہاں آتے ہیں۔”

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): چن ہان، چیئرمین، ٹونگ ہان چون تانگ

"غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مشاہدے، سننے، سوال کرنے اور نبض دیکھنے کے ذریعے ہمارے ڈاکٹر صحت کے معمولی مسائل بھی سمجھ لیتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ مذاق کے طور پر کہتے ہیں کہ جیسے ہم ذہن پڑھ سکتے ہیں۔”

شنگھائی، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

شنگھائی کے یو یوآن گارڈن میں روایتی چینی طب مرکز قائم ہے

240 سالہ پُرانا ٹونگ ہان چون تانگ اب سیاحتی تجربہ بن گیا

غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں آ کر تجربہ کرتی ہے

توئینا مساج سیاحوں کے لئے منفرد روایتی علاج کا تجربہ ثابت ہوا

جڑی بوٹیوں کی ادویات خاص توجہ حاصل کر رہا ہے

خوشبودار تھیلیاں بنانے کی سرگرمی سیاحوں میں مقبول ہو رہی ہے

روایتی چینی طب اب علاج سے زیادہ ثقافتی تجربہ بن گئی ہے

ڈاکٹر مشاہدے ، سوال اور نبض سے صحت کا اندازہ لگاتے ہیں

سیاح اس منفرد طبی روایت کو قریب سے سمجھ رہے ہیں

شنگھائی روایتی طب اور عالمی سیاحت کا اہم مرکز بن گیا ہے

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں