شین زین آنر اسمارٹ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی کا تیارکردہ انسان نما روبوٹ “فلیش” اتوار کے روز سال 2026 کی ’’بیجنگ ای ٹاؤن ہاف میراتھن‘‘ میں فاتح قرار پایا ہے۔
روبوٹ نے خودکار طریقے سے راستہ تلاش کرتے ہوئے50 منٹ 26 سیکنڈ میں دوڑ مکمل کر لی اور انسانی عالمی ریکارڈ 57 منٹ 20 سیکنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
جیسے ہی یہ ایونٹ اپنے دوسرے ایڈیشن میں داخل ہوا انسان نما روبوٹس نے نمایاں پیش رفت دکھائی اور دوڑ کے دوران رفتار اور توازن میں بہتری کا مظاہرہ کرتےہوئے اہم تکنیکی کامیابیاں حاصل کیں۔
رواں برس ایونٹ میں شرکت کرنے والی ٹیموں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی جن میں جرمنی، فرانس اور برازیل سے آنے والے شرکاء بھی شامل تھے۔
مسابقتی قواعد کے مطابق دوڑ میں شریک روبوٹس اور انسانوں نے ایک ہی راستہ اختیار کیا لیکن حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے الگ الگ ٹریکس میں دوڑ لگائی۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): ژاؤ مِنگ گو، پروفیسر، سنگہوا یونیورسٹی
"اس میراتھن کے انعقاد کا بنیادی مقصد ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ مثال کے طور پر ہارڈویئر کی قابلِ اعتماد کارکردگی، موٹر کی طاقتور صلاحیت اور ماحول کو پہچاننے کی اہلیت ۔ یہ تمام ٹیکنالوجیز کسی نہ کسی شکل میں مستقبل میں مخصوص عملی استعمالات میں ڈھالی جا سکتی ہیں۔”
روبوٹس نہ صرف ٹریک پر "اسٹارز” بن کر نمایاں رہے بلکہ مقابلے کے ہر گوشے میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان میں سے ایک روبوٹ "ٹو ٹو” نے بصارت سے محروم ایک شخص کو دوڑ مکمل کرانے میں مدد بھی فراہم کی۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): تانگ زی شیاؤ، پروڈکٹ منیجر، آمیپ
"یہ آمیپ کا پہلا چار ٹانگوں والا روبوٹ ‘ٹوٹو’ ہے۔ ٹو ٹو پہلے سے طے شدہ راستوں کے لئے کسی ریموٹ کنٹرول پر انحصار نہیں کرتا بلکہ حقیقی اور کھلے ماحول میں مکمل طور پر خود رہنمائی کرتا ہے۔ آمیپ کےخصوصی مکانی ادراک اور یادداشت کے نظام کی مدد سے ’ٹو ٹو‘ فوری ماحولیاتی یادداشت تشکیل دیتا ہے۔ صرف ایک سادہ سی قدرتی زبان کی ہدایات کے ساتھ ’ٹو ٹو‘ راستہ دکھانے، کافی لانے یا پارسل اٹھانے جیسے مختلف کام خودکار طور پر انجام دے سکتا ہے۔”
بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
انسان نما روبوٹ فلیش نے بیجنگ ہاف میراتھن میں حصہ لیا
رواں برس روبوٹس کی رفتار اور توازن میں بہتری کا مشاہدہ کیا گیا
جرمنی اور فرانس سمیت دیگر ممالک کی سو سے زائد ٹیمیں شریک ہوئیں
دوڑ کےمتعین راستے پر انسانوں، روبوٹس کے لئے الگ الگ ٹریکس تھے
روبوٹس نے جدید تکنیکی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا
روبوٹ ’ٹو ٹو‘ نے بصارت سے محروم شخص کو دوڑ مکمل کرائی
تانگ زی شیاؤ کے مطابق ‘ٹوٹو’ ریموٹ کنٹرول پر انحصار نہیں کرتا
یہ راستہ دکھانے، کافی لانے یا پارسل اٹھانے کے خودکار کام انجام دیتا ہے
پروفیسر ژاؤ مِنگ گو نے میراتھن کو ٹیکنالوجی کے فروغ کا ذریعہ قرار دیا
یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں مختلف عملی استعمالات میں ڈھالی جا سکتی ہے


