گوئی یانگ (شِنہوا) بہار تہوار کی تعطیلات کے بعد چائنہ نیشنل آٹوموٹو انڈسٹری امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ گوئی ژو کمپنی لمیٹڈ کے جنرل منیجر لین چھاؤ ہونگ مارچ کے ایک مشن کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں جس میں وہ ایک تکنیکی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے پاکستان آئیں گے۔
یہ ٹیم مقامی کسانوں کو پہاڑی علاقوں کے لئے خاص طور پر تیار کردہ زرعی مشینری پر عبور حاصل کرنے کے لئے وسیع تر آلات، عملی تربیت اور دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرے گی۔
ان کی یہ شراکت داری گزشتہ سال جون میں چین کے جنوب مغربی صوبہ یون نان کے دارالحکومت کونمنگ میں منعقدہ چین-ساؤتھ ایشیا ایکسپو 2025 سے شروع ہوئی۔ اس تقریب کے دوران لین کی ٹیم نے پاکستانی کلائنٹس سے چاول کی پنیری لگانے والی 30 الیکٹرک مشینوں کا آرڈر حاصل کیا کیونکہ یہ مشینیں گوئی ژو کی غیر ہموار پہاڑیوں جیسے علاقوں میں کام کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
لین نے کہا کہ گوئی ژو کا جغرافیہ پاکستان کے بعض علاقوں سے حیرت انگیز حد تک مشابہت رکھتا ہے۔ دونوں فریقوں نے مٹی کی خصوصیات جیسے گہرائی، پکڑ اور ریت کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے مصنوعات میں بہتری کے منصوبوں پر بھی بات کی۔ مصنوعات کی موافقت دیکھتے ہوئے پاکستانی گاہکوں نے وہیں آرڈر پر دستخط کئے۔
لین نے کہا کہ پیچیدہ ماحول میں اپنی کارکردگی کے لئے ڈیزائن کئے گئے یہ ماحول دوست ٹرانسپلانٹرز لیتھیئم آئن بیٹریوں سے چلتے ہیں اور ایک بار چارج ہونے پر 6 سے 8 گھنٹے تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی پہلی کھیپ رواں سال مارچ میں فراہم کئے جانے کا امکان ہے۔
ہارڈ ویئر سے ہٹ کر چین اور پاکستان کے درمیان زرعی ماہرین کا تبادلہ بھی تبدیلی کا باعث بن رہا ہے۔ گوئی ژو یونیورسٹی کے پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ میں تحقیق کرنے والے پوسٹ ڈاکٹورل فیلو حافظ محمد عثمان علم اور تکنیکی رابطے کا ایک ذریعہ بن چکے ہیں۔
گوئی ژو یونیورسٹی کے "پی ایچ ڈی ویلیج چیف” اقدام کے تحت حافظ اپنے آبائی صوبے پنجاب واپس آئے جہاں انہوں نے دیکھا کہ مقامی کسان پودوں کی بیماریوں اور کیڑوں سے نمٹنے کی ٹیکنالوجی میں مہارت نہیں رکھتے۔ انہوں نے ماحول دوست کیڑے مار ادویات اور کیڑوں پر قابو پانے کے حوالے سے اپنے تحقیقی نتائج کا وہاں اطلاق کیا۔ موسم سرما کے دورے میں انہوں نے تین سیمینار منعقد کئے جن میں 500 سے زائد مقامی کسانوں کے ساتھ کاشتکاری کے پائیدار طریقے شیئر کئے گئے۔
گوئی ژو یونیورسٹی میں "پی ایچ ڈی ولیج چیف” کے بانی اور پوسٹ ڈاکٹورل سپروائزر وانگ یونگ نے کہا کہ ہمارا مقصد گوئی ژو کے دیہی احیا کے تجربے کو دنیا کے ساتھ بانٹنا ہے، یہ باہمی فائدے پر مبنی ایک ماڈل ہے۔
یہ تعاون اب گورننس کے خیالات کے باقاعدہ تبادلے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اگست 2025 میں پاکستانی میڈیا اور تھنک ٹینکس کے ایک وفد نے گوئی ژو کی غربت کے خاتمے کی حکمت عملیوں کا مطالعہ کرنے کے لئے وہاں کا دورہ کیا۔
دورے کے بعد پاکستان کے اخبار دی نیوز انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ "گوئی ژو غربت کے خاتمے کا ایک بہترین نمونہ ہے اور اس کی کامیابی پنجاب کے لئے قیمتی اسباق رکھتی ہے۔ گوئی ژو کی کہانی دکھاتی ہے کہ جب پالیسی مربوط ہو، سرمایہ کاری تزویراتی ہو اور عوامی خدمات کی فراہمی دیانتداری پر مبنی ہو تو انتہائی پسماندہ علاقے بھی مشکلات سے باہر نکل سکتے ہیں۔
لین نے کہا کہ پاکستان کا آمدہ دورہ نہ صرف تکنیکی خدمات فراہم کرنے کے لئے ہے بلکہ جامع معائنے اور تعاون کے مذاکرات کے لئے بھی ہے۔ پاکستانی کلائنٹس کی جانب سے ٹریکٹرز جیسی دیگر زرعی مشینری کی طلب کے پیش نظر وہ امید کرتے ہیں کہ تعاون کو مزید وسعت ملے گی اور زرعی ٹیکنالوجی اور غربت کے خاتمے کے شعبوں میں تبادلوں کو فروغ ملے گا۔


